وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد میں جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ملک میں نئے صوبے بنانے کا کوئی منصوبہ تاحال تیار نہیں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے پنجاب کو دو یا تین حصوں میں تقسیم کرنے کے کسی بھی تجویز پر غور نہیں کیا ہے اور نہ ہی خیبر پختونخوا یا بلوچستان سے نئے صوبے بنانے پر کوئی غور کیا گیا ہے۔
“فی الحال ایسا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔” انہوں نے کہا۔ “حکومت بنیادی خدمات اور معاشی استحکام پر توجہ دے رہی ہے، انتظامی دوبارہ تقسیم پر نہیں۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی جماعتوں اور علاقائی گروہوں کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات بڑھ رہے ہیں۔ سرائیکی تحریک جنوبی پنجاب میں، ہزارہ صوبے کا مطالبہ خیبر پختونخوا میں اور بلوچستان کے کچھ حصوں میں اسی طرح کے مطالبات عوامی بحث کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
نئے صوبوں کے مطالبات کیوں ہو رہے ہیں؟
- سرائیکستان: جنوبی پنجاب میں ایک طویل المدتی مطالبہ جو ترقی اور انتظامیہ میں عدم توجہ کا شکار ہونے کی وجہ سے الگ صوبے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
- ہزارہ: خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویژن کے رہائشی مسلسل الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ ثقافتی اور انتظامی اختلافات ہیں۔
- دیگر علاقے: سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے کچھ حصوں میں چھوٹے پیمانے پر تحریکیں چل رہی ہیں، لیکن ان کی سیاسی گرفت کم ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اکثر انتخابات کے دور میں سامنے آتا ہے، جب جماعتیں علاقائی حمایت حاصل کرنے کے لیے اسے استعمال کرتی ہیں۔ تاہم، وفاقی حکومت نے انتظامی پیچیدگیوں اور ممکنہ سیاسی ٹوٹ کے خدشات کی وجہ سے ایسے مطالبات کی مخالفت کی ہے۔
آئین کیا کہتا ہے؟
آئین پاکستان کی دفعہ 239(2) کے تحت نئے صوبے کا قیام صرف پارلیمنٹ کے دو تہائی اکثریت سے منظور شدہ آئینی ترمیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس کے لیے وسیع سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے، جو پاکستان کے قطبی ماحول میں مشکل رہا ہے۔
پچھلے اقدامات—جیسے 2010 کا اٹھارہویں ترمیم—نے صوبائی خود مختاری کو تو مضبوط کیا لیکن نئے صوبوں کے قیام کا حل پیش نہیں کیا۔ 2013 کی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی اس پر غور ہوا لیکن اس کا کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
آگے کیا ہو گا؟
رانا ثناء اللہ کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت فی الحال اس مسئلے کو ترجیح نہیں دے رہی ہے۔ تاہم، علاقائی جماعتیں اپنے مطالبات کو جاری رکھ سکتی ہیں، خاص طور پر اگر وہ آنے والے انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کریں۔
فی الحال، وفاقی حکومت کا دھیان معاشی بحالی، مہنگائی پر قابو اور سکیورٹی پر ہے—ایسے شعبے جہاں عوامی ناخوشی پہلے ہی عروج پر ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کی کوئی بھی کوشش کے لیے بڑے پیمانے پر سیاسی سرمایہ اور اتفاق رائے کی ضرورت ہو گی، جو فی الحال نظر نہیں آتا۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ اس مسئلے پر سیاسی یا علاقائی بنیادوں پر نظر رکھ رہے ہیں:
- آئندہ انتخابات کے لیے جماعتوں کے منشور پر نظر رکھیں—نئے صوبوں کے مطالبات اس میں نمایاں ہو سکتے ہیں۔
- پارلیمانی کارروائیوں پر نظر رکھیں اس موضوع پر کسی بھی قرارداد یا تحریر کے لیے قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر نظر رکھیں۔
- اگر آپ کسی تحریک کا حصہ ہیں تو اپنے علاقائی نمائندوں سے رابطہ کریں اور ان کے موقف کا جائزہ لیں۔
اہم نکات
- وفاقی سطح پر کوئی منصوبہ موجود نہیں نئے صوبے بنانے کا۔
- آئینی رکاوٹیں اسے دو تہائی اکثریت کے بغیر مشکل بنا دیتی ہیں۔
- علاقائی مطالبات برقرار ہیں لیکن حکومت فی الحال ان پر عمل درآمد نہیں کر رہی۔
- انتخابات کا حساب بدل سکتا ہے—منشوروں پر نظر رکھیں۔
اگرچہ نئے صوبوں کا مطالبہ کبھی غائب نہیں ہو گا، لیکن آج کے بیان سے یہ واضح ہے کہ وفاقی حکومت اس حوالے سے کوئی انتظامی تبدیلیاں کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ فی الحال دھیان کہیں اور ہے۔
