مظفر گڑھ میں شور کی آلودگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے، جبکہ محکمہ ماحولیات کی کارکردگی صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہے۔

مظفر گڑھ میں شور کی آلودگی ایک سنگین مسئلہ کیوں ہے؟

شہر میں گاڑیوں کے غیر قانونی سائلنسرز، صنعتی سرگرمیوں اور تجارتی مراکز میں لگے اونچی آواز والے لاؤڈ اسپیکرز کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ اگرچہ ماحولیاتی تحفظ کے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔

  • مسلسل شور کے باعث ہائی بلڈ پریشر، نیند کی کمی اور ذہنی تناؤ جیسے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔
  • مقامی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات کی جانب سے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کوئی ٹھوس مہم اب تک شروع نہیں کی گئی۔
  • شہریوں کا کہنا ہے کہ شکایات درج کرانے کے باوجود حکام کی جانب سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔

حکومتی نگرانی کا فقدان

مظفر گڑھ کے عام شہری اس صورتحال سے سخت نالاں ہیں۔ محکمہ ماحولیات کا کام ماحولیاتی خطرات کو کم کرنا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ ٹریفک پولیس کبھی کبھار گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے، لیکن صنعتی اور کمرشل شور کے خلاف کوئی واضح لائحہ عمل موجود نہیں ہے۔

شہریوں کو کیا کرنا چاہیے؟

جب تک حکومتی سطح پر کوئی بڑی کارروائی نہیں ہوتی، شہری اپنے طور پر آواز اٹھا سکتے ہیں۔ شور کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کریں اور ان کی تفصیلات ضلعی انتظامیہ کے دفتر میں جمع کرائیں۔ اجتماعی شکایات اور درخواستیں انفرادی شکایات کے مقابلے میں زیادہ اثر دکھاتی ہیں۔

مستقبل میں کیا توقع رکھی جائے؟

ضلعی کونسل کے آئندہ اجلاسوں پر نظر رکھیں جہاں عوامی صحت کے مسائل زیر بحث آتے ہیں۔ اگر محکمہ ماحولیات نے اپنی کارکردگی بہتر نہ بنائی تو عوامی حلقوں کی جانب سے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے کہ شہر کے اہم مقامات پر شور کی پیمائش کرنے والے آلات نصب کیے جائیں۔