پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یورپ اور کینیڈا کے تعلیمی اداروں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے مبینہ کرپشن ریکارڈ کو اپنے نصاب میں شامل کر لیا ہے۔ یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

نورین نیازی کے تعلیمی نصاب سے متعلق دعوے پر تنازع

نورین نیازی کا یہ بیان کہ مغربی ممالک کے اسکولوں نے پاکستانی سیاسی جماعتوں کی کرپشن کو باقاعدہ تعلیمی مواد بنا لیا ہے، حقیقت پسندانہ نہ ہونے کی وجہ سے ٹرولنگ کا شکار ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یورپی اور کینیڈین تعلیمی بورڈز انتہائی سخت اور طے شدہ نصابی عمل سے گزرتے ہیں، اور ان کا کسی دوسرے ملک کی سیاسی جماعتوں کے کرپشن ریکارڈ کو اپنے نصاب میں شامل کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

اس دعوے کے حوالے سے کوئی بھی ثبوت، اسکول کا نام، یا تعلیمی بورڈ کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا صارفین اسے ایک غیر مصدقہ اور سیاسی بیان قرار دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

سوشل میڈیا پر صارفین نے اس بیان کا مذاق اڑاتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا واقعی کوئی بین الاقوامی تعلیمی ادارہ پاکستان کی داخلی سیاست کو اپنے نصاب میں شامل کر سکتا ہے؟

  • دعویٰ: یورپی اور کینیڈین اسکولوں میں پی ایم ایل این اور پی پی پی کی کرپشن پڑھائی جا رہی ہے۔
  • حقیقت: اب تک کسی بھی تعلیمی ادارے نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔
  • عوامی ردعمل: صارفین نے اسے حقائق سے عاری اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اس تنازع کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستان میں جاری سیاسی محاذ آرائی کا عکاس ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایسی معلومات کی تصدیق کرنا عام شہری کی ذمہ داری ہے تاکہ گمراہ کن بیانیوں سے بچا جا سکے۔ نورین نیازی کی جانب سے اس دعوے کے ثبوت پیش نہ کیے جانے کی صورت میں اس معاملے کے جلد ختم ہونے کا امکان ہے، تاہم یہ واقعہ سوشل میڈیا پر سیاسی بیانیوں کی تکرار کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔