شمالی کوریا نے جمعرات کے روز اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں ایک شارٹ رینج north korea ballistic missile داغ دیا ہے۔ یہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پیانگ یانگ کا پہلا ہتھیاروں کا تجربہ ہے، جو امریکہ اور جنوبی کوریا کی بڑے پیمانے پر ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں سے قبل خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اس تجربے کی تصدیق کی ہے، جس سے ہتھیاروں کے تجربات میں عارضی تعطل ختم ہو گیا ہے۔

یہ اشتعال انگیز اقدام واشنگٹن اور سیول کی جانب سے پیر کے روز کیے گئے اس اعلان کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں اگلے ہفتے شروع ہوں گی۔ شمالی کوریا ہمیشہ سے ان مشقوں کو اپنے ملک پر حملے کی تیاری قرار دیتا رہا ہے اور ماضی میں بھی اس کا جواب میزائل تجربات سے دیتا آیا ہے۔

اس حالیہ کشیدگی کے حوالے سے اہم ترین حقائق درج ذیل ہیں:
- تجربے کی تاریخ: جمعرات (30 سے زائد دنوں میں پیانگ یانگ کا پہلا بڑا تجربہ)۔
- ہتھیار کی قسم: جزیرہ نما کوریا کے مشرقی پانیوں کی طرف داغہ گیا ایک شارٹ رینج بیلسٹک میزائل۔
- وجہ: اگلے ہفتے شروع ہونے والی جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقیں۔
- اتحادیوں کا موقف: پیر کے روز اتحادی افواج نے اعلان کیا کہ ان مشقوں کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری خطرات کے خلاف دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
- عالمی اثرات: مشرقی سمندر میں بحری تجارتی راستوں کی بندش کا خطرہ اور عالمی توانائی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ۔

شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربے سے نئی کشیدگی کا آغاز

جنوبی کوریا کے فوجی راڈار نے جمعرات کی صبح سویرے اس north korea ballistic missile کی پرواز کا سراغ لگایا۔ سیول کے فوجی حکام کے مطابق، میزائل جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر میں گرنے سے پہلے کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر گیا۔ امریکی اور جنوبی کوریائی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس وقت میزائل کے ڈیٹا کا تجزیہ کر رہی ہیں تاکہ اس کی درست پرواز اور کلاس کا تعین کیا جا سکے۔

اس تجربے نے چار ہفتوں سے جاری خاموشی کا خاتمہ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ نے اس عارضی وقفے کو اپنی زرعی پیداوار کو منظم کرنے اور طویل مدتی فوجی محاذ آرائی کے لیے اپنی افواج کو تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اب جبکہ امریکہ اور جنوبی کوریا دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں، شمالی کوریا مشقوں کے آغاز سے پہلے ہی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشقوں پر پیانگ یانگ کا غصہ کیوں؟

اس اچانک فوجی سرگرمی کی بنیادی وجہ اگلے ہفتے شروع ہونے والی سالانہ دفاعی مشقیں ہیں۔ پیر کے روز واشنگٹن اور سیول کے دفاعی حکام نے تصدیق کی تھی کہ ان کی افواج اگلے ہفتے سے مشترکہ جنگی مشقیں شروع کریں گی۔ ان مشقوں کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری حملوں کے خلاف دفاع، کمانڈ اینڈ کنٹرول آپریشنز اور ساحلی علاقوں میں فوج اتارنے کی مشق کرنا ہے۔

اگرچہ اتحادیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ مشقیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں، لیکن شمالی کوریا انہیں اپنی خودمختاری کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ ماضی میں شمالی کوریا ان مشقوں کے دوران بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں (ICBMs) کے تجربات کرتا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جمعرات کا یہ تجربہ محض آغاز ہے اور آنے والے دنوں میں مزید تجربات متوقع ہیں۔

پاکستان اور عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات

اگرچہ جزیرہ نما کوریا جغرافیائی طور پر اسلام آباد یا کراچی سے بہت دور ہے، لیکن مشرقی ایشیا کی غیر یقینی صورتحال براہ راست پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

سب سے پہلے، اس سے بحری تجارت کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ کوریا اور جاپان کے ارد گرد کے سمندری راستے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں بحری جہازوں کے انشورنس چارجز بڑھ سکتے ہیں، جس سے پاکستان میں ہیوی مشینری، سیمی کنڈکٹر چپس اور گاڑیوں کے پرزہ جات کی درآمد میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

دوسرا بڑا اثر خام تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ ایشیا میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اگر خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان میں اوگرا (OGRA) پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کرتا ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔

مزید برآں، ہزاروں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں جنوبی کوریا میں مقیم ہیں۔ وہاں کسی بھی قسم کی جنگی صورتحال ان کی حفاظت اور پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (remittances) کو متاثر کر سکتی ہے۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ جنوبی کوریا یا جاپان سے الیکٹرانکس، گاڑیاں یا صنعتی مشینری درآمد کرنے والے پاکستانی تاجر ہیں، تو اپنے شپنگ ایجنٹس سے رابطے میں رہیں اور ممکنہ تاخیر کے لیے تیار رہیں۔

عام قارئین کو اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ردعمل پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر امریکہ نے نئی پابندیاں عائد کیں تو شمالی کوریا مزید خطرناک تجربات کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، جنوبی کوریا جانے والے پاکستانی شہری وزارت خارجہ کی آفیشل ویب سائٹ (mofa.gov.pk) پر سفری ہدایات چیک کرتے رہیں۔