شمالی اضلاع میں مون سون کی شدید بارشوں اور گلیشیئرز پھٹنے کے واقعات کے بعد سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے، جس سے لوئر چترال کے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے جبکہ ملک بھر میں بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد 141 تک پہنچ گئی ہے۔ ان ناگہانی حالات نے مقامی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور کئی اہم شاہراہیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق لوئر چترال میں کم از کم 26 مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا ہے جبکہ سیلابی ریلے زرعی زمین اور فصلوں کو بھی بہ لے گئے۔ دور افتادہ وادیوں کے مکین اب مکمل طور پر محصور ہو چکے ہیں کیونکہ مین روڈز اور رابطہ سڑکیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا عملہ متاثرہ علاقوں تک بھاری مشینری پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے مگر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔

چترال میں پلوں اور سڑکوں کی تباہی

شمالی وادیوں میں ہونے والی اس تباہی نے ایک بار پھر پہاڑی علاقوں کی موسمیاتی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ چترال کے بالائی حصوں میں بادل پھٹنے کے واقعات کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور پانی کا تیز بہاؤ آبادیوں کی طرف بڑھ گیا۔ دریاؤں اور نالوں کے کنارے بسنے والے خاندانوں کو راتوں رات محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔

  • لوئر چترال میں کم از کم 26 مکانات سیلاب کی زد میں آ گئے
  • اہم پل بہہ جانے سے مقامی ٹرانسپورٹ کا نظام معطل
  • زرعی زمین اور تیار فصلیں ریلے میں ڈوب گئیں
  • متعدد دیہات میں بجلی اور مواصلاتی رابطے منقطع

مسافروں اور سیاحت کے لیے ہدایات

اگر آپ نے ان دنوں شمالی علاقوں کی طرف سفر کا ارادہ کیا ہے تو اسے فی الحال ملتوی کر دیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور ٹریفک پولیس نے خراب حالات کی وجہ سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ پہاڑی شاہراہوں پر مٹی کے تودے گرنے کا سلسلہ جاری ہے، اس لیے چھوٹی یا بڑی گاڑیوں سے سفر جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

متاثرہ اضلاع میں موجود افراد اپنے پاس ہنگامی راشن، پینے کا صاف پانی اور موبائل پاور بینک محفوظ رکھیں۔ روڈ بحالی کے کاموں سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے مقامی ریڈیو یا صوبائی اداروں کی جاری کردہ رپورٹس پر نظر رکھیں۔ کسی بھی صورت میں پانی کے تیز بہاؤ کو عبور کرنے کی کوشش نہ کریں۔

آئندہ چند روز میں متوقع صورتحال

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے جس سے پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گھیلے نالوں اور گلیشیئرز کی مانیٹرنگ جاری رکھی جا رہی ہے۔ موسم بہتر ہوتے ہی ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امدادی سامان کی فراہمی شروع کی جائے گی جبکہ پلوں کی مستقل تعمیر میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔