ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارٹ ایڈ نے 15 جولائی 2026 کو اسلام آباد پہنچنے کے لیے ایک معمولی پرواز کا انتخاب کیا، جس نے پاکستان میں وی آئی پی پروٹوکول کی روایت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جہاں پاکستان کے سرکاری اہلکار اور غیر ملکی وفود کو ہوائی اڈے پر سرخ قالین، پولیس کے دستے اور موٹر کیڈز کا استقبال کیا جاتا ہے، وہاں ایڈ نے کسی بھی خصوصی سہولت کے بغیر ایک معمولی پرواز سے اتر کر اپنا سامان خود اٹھایا اور ہوائی اڈے سے باہر نکل گئے۔

ان کی آمد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جہاں پاکستان کے شہریوں نے سوال اٹھائے کہ اگر ناروے جیسے ملک کا وزیر خارجہ معمولی سفر کر سکتا ہے تو پاکستان میں وی آئی پی پروٹوکول کیوں اتنی اہمیت رکھتی ہے؟ جہاں سرکاری اہلکار اور سیاست دان سڑکوں کو بند کروا کر، ٹریفک کو الجھا کر اور عوام کو پریشانی کا سامنا کراتے ہیں، وہاں ناروے کے وزیر خارجہ کو کسی بھی خصوصی سہولت کی ضرورت نہیں پڑی۔

اسلام آباد ہوائی اڈے پر کیا ہوا

  • ایڈ نے 15 جولائی 2026 کو صبح 11:15 بجے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ (آئی ایس بی) پر ناروے ایئر شٹل کی معمولی پرواز سے اتر کر اسلام آباد پہنچے۔
  • انہیں کوئی سرخ قالین، وی آئی پی لاؤنج یا پولیس کے دستے کا استقبال نہیں کیا گیا۔
  • مسافروں نے بتایا کہ وزیر خارجہ نے اپنا سامان خود اٹھایا اور بغیر کسی سرکاری مدد کے ہوائی اڈے سے باہر نکل گئے۔
  • پاکستان میں غیر ملکی وفود کے لیے عام طور پر فراہم کی جانے والی موٹر کیڈ اور سرکاری محافظوں کی سہولت انہیں نہیں دی گئی۔

یہ ویڈیو چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر پھیل گئی، جہاں پاکستان کے شہریوں نے سوال اٹھائے کہ اگر غیر ملکی وفود کو معمولی سہولیات پر راضی کیا جا سکتا ہے تو پاکستان کے اپنے سرکاری اہلکاروں کو کیوں اتنی سہولیات کی ضرورت پڑتی ہے؟

پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے

یہ واقعہ پاکستان میں وی آئی پی کلچر پر ایک بار پھر بحث چھڑا دیتا ہے، جہاں سیاست دان، سرکاری افسران اور حتیٰ کہ جج بھی سرخ قالین، سائرن اور سڑکوں کی بندش کا مطالبہ کرتے ہیں—جس کی وجہ سے ملک کے بڑے شہروں جیسے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ٹریفک جام اور عوامی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کلچر ملک کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچاتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق، وی آئی پی پروٹوکول کی وجہ سے سالانہ 12 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے، کیونکہ سڑکوں کی بندش اور پولیس کے دستوں کی تعیناتی سے عوامی ٹریفک اور کاروبار متاثر ہوتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام آباد میں 90 فیصد وی آئی پی موومنٹ غیر ضروری ہیں اور ان کا کوئی سکیورٹی فائدہ نہیں ہے۔

پچھلے کئی سالوں سے عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، اور #EndVIPCulture جیسے ہیش ٹیگز اکثر ٹرینڈ ہوتے رہتے ہیں۔ 2024 میں، پاکستان کی سپریم کورٹ نے ججوں کے لیے وی آئی پی پروٹوکول پر پابندی لگا دی تھی، جسے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، سیاست دانوں اور غیر ملکی وفود کے لیے یہ روایت اب بھی برقرار ہے۔

پاکستانی حکام کا موقف

خارجہ دفتر نے ایڈ کی آمد پر ابھی تک کوئی باضابطہ رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن ذرائع کے مطابق حکومت غیر ملکی وفود کے لیے پروٹوکول کے قواعد کا جائزہ لے رہی ہے۔ ایک سینئر سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان اکثر مہمان ملک کی طرف سے دی جانے والی سہولتوں کے مطابق اپنے پروٹوکول کا معیار طے کرتا ہے۔ "اگر کوئی ملک اپنے وزیر خارجہ کو معمولی پرواز پر بھیجتا ہے تو ہمیں سرخ قالین کی ضرورت نہیں ہے،" انہوں نے کہا۔

تاہم، inside وزارت داخلہ نے اس روایت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی وفود کی سکیورٹی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ایک وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا، "وی آئی پی پروٹوکول صرف شہرت کا معاملہ نہیں، بلکہ غیر ملکی وفود کی حفاظت اور سرکاری ملاقاتوں کی سہولت کے لیے ضروری ہے۔"

اب کیا ہونا چاہیے؟

ماہرین اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اگلے اقدامات کرنے چاہئیں:

  • غیر ضروری وی آئی پی پروٹوکول کو ختم کریں: ناروے کی طرح، صرف حقیقی سکیورٹی خطرے کی صورت میں ہی حفاظتی دستے فراہم کریں۔
  • 2002 کے وی آئی پی سکیورٹی قوانین میں اصلاحات: وی آئی پی سکیورٹی رولز، 2002 کے تحت سرکاری اہلکاروں کو سائرن اور تحفظ کے دستے فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان قوانین کو منسوخ یا تبدیل کرنے سے وی آئی پی کلچر پر لگام لگ سکتی ہے۔
  • عوامی آگاہی مہمات: بہت سے پاکستانی اب بھی وی آئی پی پروٹوکول کو احترام کا نشان سمجھتے ہیں، نہ کہ عوامی وسائل کا ضیاع۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور ٹریفک پولیس عوامی آگاہی مہم چلا کر اس غلط فہمی کو دور کر سکتی ہیں۔
  • سربراہی سے مثال قائم کریں: اگر وزیر اعظم اور چیف جسٹس بھی سائرن اور سرخ قالین کا استعمال بند کر دیں تو وی آئی پی کلچر میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

اگلے اقدامات پر نظر رکھیں

  • پارلیمانی بحث: حزب اختلاف نے قومی اسمبلی میں وی آئی پی پروٹوکول کے قوانین پر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔
  • سپریم کورٹ کا فیصلہ: عدالت عظمیٰ میں وی آئی پی پروٹوکول پر پابندی کے لیے ایک درخواست زیر سماعت ہے، جس کا فیصلہ اگست 2026 تک متوقع ہے۔
  • خارجہ دفتر کا جائزہ: حکومت غیر ملکی وفود کے لیے نئے پروٹوکول کے قواعد جاری کر سکتی ہے، جو مہمان ملک کی طرف سے دی جانے والی سہولتوں کے مطابق ہوں گے۔

ناروے کے وزیر خارجہ کی سادہ آمد ایک چھوٹا سا واقعہ لگ سکتی ہے، لیکن اس نے پاکستان کے گہرے تضادات کو بے نقاب کر دیا ہے: ہم اپنے ہی شہریوں کے ساتھ وہ احترام کیوں نہیں کرتے جو ہم غیر ملکی وفود کو دیتے ہیں؟

اگر ناروے اپنے وزراء کو بغیر سرخ قالین کے سفر کرنے دے سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟