نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کے بعد پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی اب سرکاری پالیسی کی ترجیح بن گئی ہے۔ 'ڈرائیونگ دی ای وی ٹرانزیشن: سائنرجائزنگ پالیسی، گرڈ، اینڈ گرین فنانسنگ' کے عنوان سے ہونے والی اس کانفرنس میں صنعت کے ماہرین، حکومتی عہدیداروں اور توانائی کے ماہرین نے ان رکاوٹوں کا جائزہ لیا جو الیکٹرک گاڑیوں کے پھیلاؤ کو سست کر رہی ہیں۔

الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی میں حائل رکاوٹیں

پاکستان میں عام شہری کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی مہنگی گاڑیوں اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے رکی ہوئی ہے۔ نسٹ کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی منتقلی کو کامیاب بنانا ہے تو حکومت کو صرف مراعات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ شرکاء نے کہا کہ نیپرا اور وزارت توانائی کو چارجنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کے مطابق گرڈ کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہوگا۔ اگر رہائشی اور تجارتی چارجرز کے لیے بجلی کے الگ ٹیرف مقرر نہ کیے گئے، تو ہمارے موجودہ نیٹ ورک پر بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

  • چارجنگ کے معیار کو یکساں بنانا ضروری ہے تاکہ مارکیٹ میں انتشار نہ پھیلے۔
  • گرین فنانسنگ کی سہولیات صرف کمرشل کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ عام خریداروں کی پہنچ میں ہونی چاہئیں۔
  • مقامی سطح پر بیٹریوں کی اسمبلنگ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

آپ کی جیب پر اس کا کیا اثر ہوگا؟

کانفرنس میں اس بات پر سیر حاصل بحث ہوئی کہ گرین فنانسنگ کس طرح بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے بوجھ کو کم کر سکتی ہے۔ فی الحال، پیٹرول اور ڈیزل پر ہونے والا خرچہ ایک اوسط گھرانے کے بجٹ کا بڑا حصہ ہڑپ کر جاتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ اگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان الیکٹرک گاڑیوں کے خریداروں کے لیے رعایتی قرضے متعارف کرائے، تو گاڑی کی ماہانہ قسط موجودہ پیٹرول کے ماہانہ خرچ سے کم ہو سکتی ہے۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ الیکٹرک گاڑی خریدنے کا سوچ رہے ہیں، تو بجٹ میں ٹیکس چھوٹ کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ فی الحال، ایف بی آر ای وی پارٹس کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی کی پیشکش کر رہا ہے۔ گاڑی لینے سے پہلے یہ یقینی بنائیں کہ آپ کی مقامی بجلی تقسیم کار کمپنی (ڈسکو) کے پاس چارجنگ کے لیے میٹرنگ کا مناسب نظام موجود ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اس منتقلی کا اگلا مرحلہ قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے نفاذ پر منحصر ہے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے عوامی چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے جاری ہونے والی نئی ہدایات پر نظر رکھیں۔ اگر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کامیاب رہے، تو 2025 کے آخر تک موٹر ویز پر چارجنگ حبس کی تعداد میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔