آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ میں اعلیٰ درجے کے لیتھیم کے ذخائر دریافت کرنے کے بعد باضابطہ طور پر اس کی تجارتی بنیادوں پر نکالنے کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری توانائی کے حکام نے سندھ میں اعلیٰ درجے کے لیتھیم کی دریافت کی تصدیق کی ہے، جو پاکستان کے ملکی معدنی شعبے میں ایک اہم موڑ ہے۔ لیتھیم دنیا بھر میں ریچارج ایبل بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا انتہائی اہم مواد ہے جو الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر اسمارٹ فونز تک ہر جگہ استعمال ہوتا ہے۔
سرکاری توانائی کے اداروں نے سائیٹ کو محفوظ بنانے اور تجارتی صلاحیت کا تخمینہ لگانے کے لیے تکنیکی ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔ اگرچہ باضابطہ تلاش کے شیڈول کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، لیکن فیلڈ یونٹس نے زمینی سروے کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اس پیش رفت سے پاکستان کے لیے عالمی بیٹری سپلائی چین میں داخل ہونے کا امکان روشن ہو گیا ہے۔
ملکی معیشت کے لیے لیتھیم کی اہمیت
ماضی کے برعکس آج کل دنیا بھر میں فوسل فیول سے الیکٹرسٹی کی طرف منتقلی کے باعث لیتھیم کی طلب میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اب تک پاکستان اپنی توانائی کے ذخیره جات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا رہا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ رہتا ہے۔ سندھ میں لیتھیم کے ذخائر ملکی برآمدات کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں بشرطیکہ مقامی سطح پر ریفائننگ کی صلاحیت کو بھی بہتر بنایا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خام معدنیات کا مالک بننا کامیابی کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔ لیتھیم کی ریفائننگ کے لیے جدید کیمیکل پلانٹس کی ضرورت ہوتی ہے جو ماحولیاتی معیار پر پورے اترتے ہوں۔ وفاقی حکومت کو خام معدنیات کو قابل استعمال بیٹری میٹریل میں تبدیل کرنے کے لیے بین الاقوامی کمپنیوں سے اشتراک کرنا ہوگا۔
آگے کیا ہوگا؟
او جی ڈی سی ایل کی انتظامیہ سندھ کے متعلقہ اضلاع میں ڈرلنگ کے اجازت نامے اور ماحولیاتی کلیئرنس حاصل کرنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کر رہی ہے۔ آپ سرمایہ کاری اور ڈرلنگ سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے او جی ڈی سی ایل کی آفیشل ویب سائٹ کا وزٹ کر سکتے ہیں۔
عام شہریوں کے لیے اس دریافت سے فوری طور پر بلوں یا ایندھن کی قیمتوں میں کمی نہیں آئے گی، تاہم یہ طویل مدتی صنعتی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں جوائنٹ وینچر پارٹنرشپ اور وفاقی معدنی پالیسی کے اعلان پر نظر رکھیں جو یہ طے کریں گے کہ سندھ کی مٹی سے لیتھیم کتنی جلدی عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔
