سرکاری سطح پر ogdcl lithium extraction کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے کیونکہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد سندھ میں حال ہی میں دریافت ہونے والے لیتھیم کے ذخائر کو کارآمد بنانے کے لیے تکنیکی صلاحیتوں کو یکجا کرنا ہے۔ اس اشتراک سے ملک کے معدنی شعبے کو فروغ ملے گا اور باہر سے لیتھیم منگوانے پر انحصار کم ہوگا۔
سندھ میں لیتھیم کی دریافت
حالیہ ارضیاتی سروے کے دوران سندھ کے مختلف حصوں میں لیتھیم کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد وفاقی اداروں نے اس پر کام تیز کر دیا۔ اگرچہ تجارتی مقدار کے حتمی تخمینے مزید ڈرلنگ کے بعد سامنے آئیں گے، لیکن ابتدائی رپورٹس کافی حوصلہ افزا ہیں۔ پاکستان اس وقت بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے درکار لیتھیم درآمد کرتا ہے، اس لیے مقامی سطح پر اس کی ریفائننگ قومی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
Pinstech کا تکنیکی کردار
خام دات یا نمکین پانی سے بیٹری کے معیار کا لیتھیم الگ کرنا ایک پیچیدہ کیمیائی عمل ہے جس کے لیے جدید لیبارٹریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ Pinstech اس معاملے میں اہم سائنسی مہارت فراہم کرے گا تاکہ خام مال کو بیرون ملک بھیجے بغیر یہیں پر ریفائننگ کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔ اس شراکت داری سے مقامی انجینئرز کو بھی ریفرنڈنگ کے جدید طریقے سیکھنے کا موقع ملے گا۔
- ذخائر کے قریب تجرباتی پلانٹس کی تنصیب
- مقامی سائنسدانوں کے لیے خصوصی تربیت
- ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے سروے
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کا تعلق ٹیکنالوجی یا مینوفیکچرنگ کے شعبے سے ہے، تو آنے والے دو سالوں میں مقامی سطح پر خام مال کی دستیابی کی خبروں پر نظر رکھیں۔ اگرچہ عام صارف کے لیے اس کا اثر آنے میں وقت لگے گا، لیکن یہ پیش رفت صنعتی خام مال کے حوالے سے امید کی کرن ہے۔ سرمایہ کار اس منصوبے سے جڑی پی ایس ایکس کی تازہ ترین رپورٹس کو مانیٹر کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
اس بات پر نظر رکھیں کہ OGDCL سندھ میں پائلٹ پلانٹ کے قیام کے لیے کون سا حتمی ٹائم لائن جاری کرتا ہے۔ پاکستان میں سرکاری سطح کے معدنی منصوبوں کو اکثر بیوروکریسی کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اصلی امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ دونوں ادارے اگلے چوبیس ماہ میں تجارتی پیمانے پر معیاری لیتھیم تیار کر پاتے ہیں یا نہیں۔
