ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے خلاف سخت حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد پاکستان میں پیٹرول کی قیمت اور تیل کی فروخت میں اچانک نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معروف بروکریج ہاؤسز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے مہینے میں پاکستانی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران ملک کے پٹرولیم سیکٹر میں سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے۔ طویل عرصے تک بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں ایرانی اسمگل شدہ سستا تیل قانونی پمپس کے کاروبار کو نقصان پہنچا رہا تھا، تاہم وفاقی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے بعد اس غیر قانونی تجارت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

اعداد و شمار کے پیچھے حقائق اور معیشت پر اثرات

اس سالانہ اضافے کی بنیادی وجہ اسمگلنگ کے راستوں کی بندش ہے جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار اور کار مالکان اب مجبوری میں قانونی پمپس کا رخ کر رہے ہیں۔ پہلے لوگ سستے غیر قانونی تیل پر انحصار کرتے تھے جو سڑکوں کے کناروں پر فروخت ہوتا تھا، لیکن اب وہ سپلائی چین باضابطہ ٹریک پر آ گئی ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں رجسٹرڈ فیول اسٹیشنز کی فروخت میں اسی وجہ سے نمایاں بہتری آئی ہے، کیونکہ صارفین کے پاس قانونی تیل خریدنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔

عام آدمی کے لیے اس تبدیلی کا مطلب کوئی مالی ریلیف نہیں۔ آپ ایک ایسا سستا ایندھن چھوڑ رہے ہیں جو انجن کے لیے بھی نقصان دہ تھا، اور اب بھاری ٹیکسوں والا مہقہ قانونی پیٹرول خرید رہے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور روپے کی قدر کے مطابق قیمتیں طے کرتی ہے، اس لیے کمپنیوں کے منافع بڑھنے سے آپ کے ماہانہ سفری اخراجات کم نہیں ہوں گے۔

آپ کے ماہانہ بجٹ پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟

اگر آپ روزانہ نوکری یا کاروبار کے لیے موٹر سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں، تو اسمگلنگ کے خاتمے سے آپ کا ماہانہ خرچ بڑھ گیا ہے۔ قانونی پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر حکومت کی طرف سے ہیوی پیٹرولیم لیوی، جنرل سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹیز عائد ہوتی ہیں۔ جب کمپنیاں زیادہ ایندھن فروخت کرتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست غریب صارفین سے زیادہ ٹیکس وصول کر رہی ہے۔

  • سفری اخراجات: قانونی پمپس سے ٹینکی فل کرانے پر آپ کو تمام ٹیکس سمیت پوری قیمت ادا کرنی ہوگی۔
  • گاڑی کی دیکھ بھال: اگرچہ قانونی تیل انجن کے لیے بہتر ہے، لیکن اس کی زیادہ قیمت آپ کے گھریلو بجٹ پر بوجھ بن جاتی ہے۔
  • کرایوں میں اضافہ: ڈیزل کی قانونی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز اکثر مسافروں پر کرایوں کا اضافی بوجھ ڈال دیتے ہیں۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت کتنی ہی کیوں نہ بڑھ جائے، آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی کوئی امید نہیں۔ ہر مہینے کی 15 تاریخ اور آخری دن وزارت خزانہ اور اوگرا کی جانب سے جاری ہونے والی نئی قیمتوں پر کڑی نظر رکھیں۔ اپنے سفر کو محدود کریں اور گاڑی کی باقاعدہ ٹیوننگ اور ہوا کا دباؤ درست رکھیں تاکہ کم خرچ میں زیادہ مائلیج مل سکے۔

آنے والے مہینوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ سرحدی اضلاع میں انتظامیہ کتنی سختی برقرار رکھتی ہے۔ اگر سرحدی علاقوں میں ڈھیل دی گئی تو اسمگل شدہ تیل دوبارہ مارکیٹ میں آ سکتا ہے۔ فی الحال اپنے اخراجات کو قانونی پٹرول کی قیمتوں کے مطابق ہی ترتیب دیں۔