عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کے سودے 80 سینٹ یا 0.97 فیصد اضافے کے ساتھ 83.29 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے ہیں، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشات ہیں۔
پاکستان، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر پاکستانی صارفین کی جیب پر پڑتا ہے، جس سے نہ صرف ایندھن بلکہ بجلی کے بلوں میں بھی اضافے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے تعطل کا خوف پیدا کرتی ہے، جس سے قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔ چونکہ پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر محدود ہیں، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کا بڑھنا اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ، اوگرا (OGRA) کے لیے قیمتیں برقرار رکھنا مشکل بنا دیتا ہے۔
آپ کے گھریلو بجٹ پر اثرات
اگر تیل کی قیمتیں 83.29 ڈالر فی بیرل سے اوپر جاتی ہیں تو آپ کو مندرجہ ذیل اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے:
- پیٹرولیم مصنوعات: اوگرا ہر پندرہ دن بعد ایندھن کی قیمتوں کا جائزہ لیتا ہے۔ اگر عالمی اوسط قیمت زیادہ رہتی ہے، تو اگلی نظرثانی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
- بجلی کے بل: پاکستان میں بجلی کا ایک بڑا حصہ درآمدی ایندھن سے پیدا ہوتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے بجلی کے بلوں میں 'فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ' (FPA) کی مد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
- مہنگائی: ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں، جس سے عام آدمی کا ماہانہ بجٹ متاثر ہوتا ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگرچہ عالمی منڈیوں پر ہمارا اختیار نہیں، لیکن آپ اپنی منصوبہ بندی بہتر کر سکتے ہیں۔ ہر ماہ کی 15 اور 30/31 تاریخ کو حکومت کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ گھبرا کر پیٹرول اسٹیشنز پر رش نہ لگائیں، کیونکہ سپلائی فی الحال معمول کے مطابق ہے۔ اپنی گاڑیوں کی دیکھ بھال کریں تاکہ فیول ایوریج بہتر رہے اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر روپے کی قدر پر نظر رکھیں، کیونکہ ڈالر مہنگا ہونے سے ایندھن کی قیمتوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
