کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک نجی کمپنی کی پرانی زیر زمین لائن پھٹ جانے سے بڑی مقدار میں تیل سڑک پر بہہ کر پھیل گیا، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ زیر زمین آئل لائن تقریباً 50 سال پرانی بتائی جاتی ہے جس نے دباؤ برداشت نہ کرتے ہوئے لیک کرنا شروع کیا۔ تیل سڑک پر پھیلنے کی وجہ سے موٹر سائیکل سواروں اور گاڑیوں کے لیے پھسلن پیدا ہو گئی اور ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔
پرانا بنیادی ڈھانچہ اور حادثات کا خطرہ
شہر قائد میں پرانی پائپ لائنوں اور بوسیدہ نیٹ ورکس کا معاملہ ایک بار پھر بحث کا محور بن گیا ہے۔ کئی دہائیوں پرانی یہ لائنیں بڑھتے ہوئے شہری دباؤ اور ہیوی ٹریفک کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ ماہرین طویل عرصے سے یہ تنبیہ کرتے آ رہے ہیں کہ رہائشی علاقوں کے قریب سے گزرنے والی صنعتی اور ایندھن کی لائنوں کا آڈٹ کیا جائے تاکہ اس قسم کے خطرناک حادثات سے بچا جا سکے جو نہ صرف سڑکیں بند کرتے ہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بھی بنتے ہیں۔
شہریوں کے لیے ہدایات
اگر آپ کا گزر اس علاقے سے ہوتا ہے تو متبادل راستے اختیار کریں اور احتیاط برتیں۔ سڑک پر پھیلے ہوئے تیل اور صفائی کے کیمیکلز کی وجہ سے دو پہیہ سواریوں بالخصوص موٹر سائیکل کے پھسلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے محفوظ رہیں۔
آئندہ کیا متوقع ہے
انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات اور نجی کمپنی کے خلاف کارروائی متوقع ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا اس نصف صدی پرانی پائپ لائن کے پورے نیٹ ورک کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی جامع لائحہ عمل بنایا جاتا ہے یا نہیں۔
