فیصل آباد ڈی سی کے احکامات جاری ہوئے پورا ایک مہینہ گزر چکا ہے لیکن میونسپل کارپوریشن فیصل آباد (ایم سی ایف) کے تین تجاوزات انسپکٹرز کے خلاف تاحال کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ صوبے کے اس اہم صنعتی شہر میں انتظامی مشینری کی سست روی نے مقامی حکومتوں میں احتساب کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ایم سی ایف انسپکٹرز کے خلاف کارروائی میں تاخیر کیوں؟

یہ سارا معاملہ میونسپل کارپوریشن فیصل آباد کے تین ایسے انکروچمنٹ انسپکٹرز کے گرد گھومتا ہے جو مبینہ بے ضابطگیوں کی زد میں آئے تھے۔ شکایات اور ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ان افراد کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم، ہفتے گزرنے کے باوجود ایک ماہ بیت گیا ہے اور نہ تو کسی کو معطل کیا گیا ہے اور نہ ہی باضابطہ چارج شیٹ جاری کی گئی ہے۔

مقامی سطح پر انتظامی سستی اکثر ایسے افسران کے لیے ڈھال بن جاتی ہے جب اعلیٰ سطح کی ہدایات بابو شاہی کی فائلوں میں دب جاتی ہیں۔ عام شہریوں کو جب میونسپلٹی کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے تو کارپوریشن کی ٹیمیں فوری طور پر جائیدادیں سیل کرنے یا بھاری جرمانے عائد کرنے پہنچ جاتی ہیں۔ لیکن جب خود انتظامی افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا حکم ہو، تو اندرونی ملی بھگت پورے نظام کو جام کر دیتی ہے۔

مقامی حکومتوں میں احتساب کا نظام کیوں رک جاتا ہے؟

فیصل آباد ڈی سی کے احکامات پر عمل درآمد میں یہ تاخیر پنجاب کے بلدیاتی ڈھانچے کی خرابیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ بلدیاتی محکمے اندرونی نظم و ضبط کو نافذ کرنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں کیونکہ جونیئر انسپکٹرز سیاسی سرپرستی یا یونینز کے زور پر سزاؤں سے بچ نکلتے ہیں۔

بیوروکریسی عام طور پر ان ہتھکنڈوں سے غلط کار افسران کو بچاتی ہے:
- فائلیں ضلعی دفاتر اور سیکرٹریٹ کے درمیان چکر لگاتی رہتی ہیں۔
- اندرونی انکوائریوں کے نام پر فیصلوں کو غیر معینہ مدت تک کھینچا جاتا ہے۔
- معطل یا অভিযুক্ত افسران کو خاموشی سے دوسری جگہ تعینات کر دیا جاتا ہے۔

شفاف ٹریکنگ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ضلعی سربراہان کے احکامات دفاتر کی میزوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔

بحیثیت شہری آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کو فیصل آباد میں میونسپل کرپشن یا تجاوزات انسپکٹرز کی طرف سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا ہے، تو زبانی شکایات پر انحصار نہ کریں۔ پاکستان سٹیزن پورٹل یا کمشنر آفس میں تحریری درخواست دیں اور ساتھ ویڈیو یا آڈیو ثبوت ضرور منسلک کریں۔ ہر شکایت کا دستاویزی ثبوت رکھنے سے انتظامیہ کے لیے معاملے کو دبانا مشکل ہو جاتا ہے۔

آگے کیا توقع کی جائے؟

آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ فیصل آباد انتظامیہ ان انسپکٹرز کے خلاف شوکاز نوٹس یا معطل کرنے کے احکامات جاری کرتی ہے یا نہیں۔ اگر ضلعی حکومت نے چشم پوشی جاری رکھی، تو مقامی تجارتی تنظیمیں اور سول سوسائٹی پنجاب حکومت کے انسپکشن ٹیم سے مداخلت کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔