پاکستان سمیت خطے بھر میں آن لائن بلیک میلنگ اور فراڈ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ سائبر مجرم اب سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ ایپس کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو پہلے دوستی کے جال میں پھنساتے ہیں اور پھر نازیبا تصاویر یا ذاتی معلومات کے ذریعے کروڑوں روپے بٹورتے ہیں۔ حال ہی میں ایک خاتون پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے آن لائن دوستی کے بعد لوگوں کو بلیک میل کر کے 6 کروڑ روپے سے زائد رقم ہتھیا لی۔ اسی طرح بھارت کے شہر راجکوٹ میں ایک 63 سالہ خاتون محض 175 روپے کا ریفنڈ حاصل کرنے کی کوشش میں 2 لاکھ روپے کے سائبر فراڈ کا شکار ہو گئیں۔
آن لائن بلیک میلنگ کے پیچھے چھپا سچ
یہ فراڈ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے جاتے ہیں۔ دھوکے باز پہلے متاثرہ شخص کا اعتماد جیتتے ہیں اور جب بات نجی تصاویر یا حساس معلومات تک پہنچ جاتی ہے، تو وہ بلیک میلنگ شروع کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف، وہ خود کو معروف آن لائن گروسری یا ڈیلیوری پلیٹ فارمز کا کسٹمر کیئر نمائندہ ظاہر کر کے لوگوں کو ریفنڈ کا لالچ دیتے ہیں۔ جب صارف 100 یا 200 روپے کی معمولی رقم کے لیے ان کے کہے پر عمل کرتا ہے، تو وہ ان کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر کے بڑی رقوم نکال لیتے ہیں۔
خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟
آن لائن بلیک میلنگ سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ناگزیر ہے:
- سوشل میڈیا پر کسی بھی اجنبی کے ساتھ ذاتی تصاویر یا ویڈیوز ہرگز شیئر نہ کریں۔
- کسی بھی نامعلوم شخص کی طرف سے بھیجے گئے لنکس پر کلک نہ کریں اور نہ ہی کوئی ایسی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں جو وہ آپ کو 'ریموٹ ایکسیس' کے لیے کہیں۔
- اگر کوئی آپ کو پیسوں کے عوض تصاویر وائرل کرنے کی دھمکی دے، تو اسے پیسے نہ دیں بلکہ فوراً اس کا رابطہ بلاک کر دیں۔
- بینک کی جانب سے آنے والی کسی بھی کال پر اپنا OTP یا پن کوڈ کسی کو نہ بتائیں، کیونکہ اصل بینک نمائندے کبھی ایسی معلومات نہیں مانگتے۔
اگر آپ بلیک میلنگ کا شکار ہو جائیں تو کیا کریں؟
اگر آپ کو بلیک میل کیا جا رہا ہے تو گھبرائیں نہیں۔ سب سے پہلے تمام چیٹس، پروفائلز اور ٹرانزیکشنز کے سکرین شاٹس محفوظ کر لیں۔ اس کے بعد فوراً ایف آئی اے (FIA) کے نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائم (NR3C) سے رابطہ کریں۔ آپ اپنی شکایت ان کی ویب سائٹ nr3c.gov.pk پر درج کروا سکتے ہیں۔
یاد رکھیں، سائبر مجرموں کو پیسے دینے کا مطلب ہے کہ آپ نے خود کو دوبارہ لوٹے جانے کے لیے تیار کر لیا ہے۔ اپنی ڈیجیٹل زندگی میں ہوشیاری ہی آپ کا بہترین دفاع ہے۔
