حضرت امام حسین (ع) کے چہلم کے موقع پر پنجاب بھر میں 42 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ منگل کے روز ملک بھر میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔
اہم جھلکیاں
* پنجاب میں تعیناتی: صوبے بھر میں 42 ہزار سے زائد پولیس افسران اور جوان تعینات۔
* مناسکت کی تاریخ: منگل کا روز۔
* اہم علاقے: پنجاب، کشمور، کندھکوٹ، ٹنڈو آدم، سانگھڑ اور دیگر شہر۔
* موقع: حضرت امام حسین (ع) اور ان کے 72 رفقاء کا چہلم۔
پنجاب میں وسیع سکیورٹی کا جال
امن و امان برقرار رکھنے اور مجالس اور جلوسوں کے پرامن انعقاد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فول پروف انتظامات کو حتمی شکل دی۔ پنجاب پولیس کی جانب سے صوبے کے مختلف اضلاع میں 42 ہزار سے زائد نفری تعینات کی گئی۔ اس دوران حساس مقامات، اہم شاہراہوں اور جلوسوں کے روایتی راستوں پر خصوصی پہرہ رکھا گیا۔
سینئر کمانڈ حکام نے مرکزی کنٹرول رومز سے صورتحال کی براہ راست نگرانی کی۔ شرکاء کی چیکنگ کے لیے واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز اور سی سی ٹی وی کیمروں کا بھرپور استعمال کیا گیا۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موبائل گشت کرنے والی ٹیمیں اور ایلیٹ فورس کے دستے الرٹ رہے۔
سندھ اور دیگر حصوں میں ملک گیر تقریبات
پنجاب کے علاوہ سندھ کے اضلاع کشمور اور کندھکوٹ میں بھی حضرت امام حسین (ع) اور کربلا کے شہداء کا چہلم سخت سکیورٹی حصار میں منایا گیا۔ ضلعی انتظامیہ اور مقامی پولیس نے پرامن اجتماعات کو یقینی بنانے کے لیے قریبی تعاون کیا۔
اسی طرح ٹنڈو آدم اور سانگھڑ میں بھی عزاداروں نے گہرے مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ شہدائے کربلا کی یاد منائی۔ جلوس مقررہ راستوں سے پرامن طریقے سے گزرے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی، جو کہ انتظامیہ اور شہریوں کی بہترین حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سخت حفاظتی اقدامات اور عوامی تعاون
حومتی اداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں نے واضح کیا کہ تمام جلوسوں کے اختتام تک ہائی الرٹ برقرار رکھا جائے گا۔ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کے بارے میں شہریوں کو بروقت آگاہ کیا گیا تاکہ زائرین اور عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انتظامی سربراہان نے شہریوں کے صبر اور فرائض کی انجام دہی میں مصروف سکیورٹی اہلکاروں کی لگن کو سراہا۔ تمام صوبوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چہلم کے اختتام تک اپنی نگاہیں پوری طرح چوکس رکھیں۔
