سندھ میں 6,200 سے زائد اسکول عمارتیں خطرناک قرار دیے جانے کے بعد ہزاروں طلباء کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ محکمہ تعلیم سندھ کی مانیٹرنگ ونگ نے صوبے بھر میں 6,220 اسکولوں کی عمارتوں کو خستہ حال اور ناقابل استعمال قرار دے دیا ہے۔ والدین اس بات پر پریشان ہیں کہ ان کے بچے ایسی عمارتوں میں کیسے تعلیم حاصل کریں جو کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔

سندھ کے اسکولوں میں بحران کی شدت

بنیادی ڈھانچے کی اس تباہی نے سالوں سے جاری حکومتی غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال بالخصوص زیادہ خراب ہے جہاں اسکولوں کی چھتیں غائب ہیں اور دیواروں میں بڑی دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ معصوم بچوں کو کھلے آسمان تلے یا خطرناک کمروں میں بیٹھنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

  • کل خطرناک قرار دی گئی عمارتیں: 6,220
  • ذمے دار ادارہ: محکمہ تعلیم سندھ کا مانیٹرنگ ونگ
  • بنیادی خطرہ: عمارتوں کا گرنا اور جانی نقصان

حکام کو فوری اقدامات کی ضرورت

صوبائی حکام اور محکمہ تعلیم کو فوری طور پر طلباء کو متبادل مقامات پر منتقل کرنا چاہیے۔ صرف رپورٹ تیار کرنا کافی نہیں ہے بلکہ فوری بنیادوں پر فنڈز جاری کر کے ان عمارتوں کی تعمیر نو شروع کی جانی چاہیے تاکہ کسی بڑے حادثے کو روکا جا سکے۔

والدین اور طلباء کے لیے اگلا قدم

اپنے قریبی ضلعی تعلیمی افسران کے اعانات پر نظر رکھیں کہ آیا آپ کے علاقے کے اسکول کو متبادل جگہ پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سول سociety کو بھی اس معاملے پر حکومت سے فوری تعمیراتی شیڈول کا مطالبہ کرنا چاہیے۔