بھارتی کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے نئی دہلی پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں مزید تاخیر نہ کرے کیونکہ خطے میں سیاسی عدم استحکام برقرار ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے اور خطے کی تقسیم کو سات سال گزرنے کے باوجود تاحال مکمل ریاستی اختیارات واپس نہیں دیے گئے۔ چدمبرم نے استفسار کیا کہ آخر ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔
آرٹیکل 370 کا تنازع اور پس منظر
جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کا یہ تنازع بدھ، 5 اگست 2019 کو اٹھایا گیا تھا جب بھارتی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے اس خطے کی خصوصی خودمختیسی حیثیت ختم کر دی تھی۔ اس یکطرفہ اقدام کے بعد متنازع خطے کو دو وفاق کے زیر انتظام حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اس متنازع تنظیم نو کو سات سال بیت چکے ہیں لیکن مقامی سیاسی قوتیں مسلسل اپنے جمہوری حقوق اور صوبائی خودمختیسی کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
سیاسی ردعمل اور خطے کی صورتحال
پاکستان میں اس پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھا جا رہا ہے جہاں مبصرین کا ماننا ہے کہ 2019 کے فیصلوں کے بعد سے مقبوضہ وادی میں اندرونی سیاسی کشمکش اور بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ چدمبرم جیسے اپوزیشن رہنماؤں کا موقف ہے کہ خطے کو براہ راست وفاقی کنٹرول میں رکھنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے اور مرکزی حکومت وعدے کے باوجود جمہوریت کی بحالی سے گریزاں ہے۔ دوسری جانب، نئی دہلی سیکیورٹی اور انتظامی انضمام کو جواز بناتی ہے مگر مقامی سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا ناانصافی ہے۔
آئندہ دیکھنے کے قابل اہم امور
سری نگر اور جموں کے مقامی سیاست دانوں کے بیانات پر نظر رکھیں، اور ساتھ ہی بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے صوبائی انتخابات یا ریاستی حیثیت کے شیڈول سے متعلق کسی بھی ممکنہ فیصلے کا جائزہ لیں۔ بین الاقوامی برادری بھی یہ دیکھ رہی ہے کہ کیا بڑھتا ہوا اندرونی دباؤ حکومت کو کوئی واضح لائحہ عمل دینے پر مجبور کرتا ہے یا نہیں۔
اہم نکات کا خلاصہ
- آرٹیکل 370 کی منسوخی کی تاریخ: بدھ، 5 اگست 2019۔
- مرکزی ناقد: پی چدمبرم، کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر۔
- بنیادی مسئلہ: سات سال گزرنے کے باوجود جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر۔
- موجودہ صورتحال: خطہ اب بھی وفاقی انتظامیہ کے ماتحت ہے جبکہ سیاسی جماعتیں واضح روڈ میپ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
