پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) نے ایک بڑے توسیعی اور جدید کاری کے منصوبے کا آغاز کیا ہے، جس میں ملک کے تین بڑے شہروں میں نئے ایئرپورٹس کی تعمیر پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ملک میں فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے اور علاقائی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اگرچہ ابھی تک ان شہروں کے ناموں کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے، لیکن اتھارٹی کا مقصد موجودہ ایئرپورٹس پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ یہ اربوں روپے کا منصوبہ نہ صرف رن ویز کی تعمیر تک محدود ہے بلکہ اس میں جدید ترین ریڈار سسٹمز، مسافر لاؤنجز اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانا بھی شامل ہے۔
نئے ایئرپورٹس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
پاکستان میں ہوابازی کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے انفراسٹرکچر میں بہتری ناگزیر ہو چکی ہے۔ موجودہ ایئرپورٹس اپنی گنجائش کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر اور رش جیسے مسائل عام ہیں۔ نئے ایئرپورٹس کے قیام سے نہ صرف مسافروں کو سہولت ملے گی بلکہ کارگو کی نقل و حمل میں بھی بہتری آئے گی، جس سے ملکی برآمدات کو فروغ مل سکتا ہے۔
پی اے اے کے توسیعی منصوبے سے کیا توقع رکھی جائے؟
فی الحال یہ منصوبہ ابتدائی منصوبہ بندی اور تکنیکی فزیبلٹی کے مرحلے میں ہے۔ حکومتی بجٹ کی منظوری اور زمین کے حصول کے بعد ہی ان منصوبوں پر عملی کام شروع ہو سکے گا۔ مسافروں اور کاروباری افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ پی اے اے کی آفیشل ویب سائٹ caapakistan.com.pk پر نظر رکھیں تاکہ کسی بھی ٹینڈر یا پیش رفت سے باخبر رہ سکیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ اکثر فضائی سفر کرتے ہیں یا آپ کا کاروبار ہوائی کارگو پر منحصر ہے، تو آنے والے مہینوں میں پی اے اے کی جانب سے جاری کردہ روڈ میپ پر نظر رکھیں۔ ان منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی کے لیے ہوائی اڈوں کے ٹیکسوں یا ڈیولپمنٹ چارجز میں ردوبدل کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، پرائیویٹ کنٹریکٹرز کے لیے جاری ہونے والے ٹینڈرز اس بات کا اشارہ ہوں گے کہ یہ منصوبے کب تک مکمل ہوں گے۔
