پنجاب اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی-ائی) نے صوبہ بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں سے واجبات کی فوری وصولی کا حکم دیتے ہوئے حکام کو کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لاہور میں ہونے والے کمیٹی کے ایک اہم اجلاس کے دوران اراکین نے سرکاری فنڈز کی عدم وصولی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (ایچ ای ڈی) کے حکام سے پوچھا گیا کہ سالوں پرانے آڈٹ اعتراضات اور مالیاتی بے ضابطگیوں کو اب تک حل کیوں نہیں کیا گیا۔

سرکاری یونیورسٹیاں طویل عرصے سے سرکاری گرانٹس، طلبہ فیس اور ریسرچ بجٹ پر انحصار کرتی ہیں، لیکن کئی کیمپسز میں مالیاتی انتظام کے معاملات آڈٹ رپورٹس میں مسلسل سوالیہ نشان بنتے رہے ہیں۔ پی اے سی کے اس تازہ حکم کا ہدف وہ فنڈز، قرضے اور بقایا جات ہیں جو سالوں سے فائلوں میں دبے ہوئے تھے۔ اراکین نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سرکاری اداروں کے پاس پڑا عوام کا پیسہ اس طرح معاف نہیں کیا جا سکتا۔

یونیورسٹی کے مالیاتی نظام پر سختی کیوں کی جا رہی ہے؟

Pakistan بھر میں مالیاتی تنگی کے پیش نظر صوبائی حکام سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس صاف کرنے کے لیے دباؤ میں ہیں۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں بارہا یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑے تعلیمی اداروں میں رقوم کی عدم وصولی اور مالیاتی نگرانی میں غفلت برتی گئی۔ جب یونیورسٹیاں اپنے مالیاتی معاملات درست نہیں رکھتیں، تو اس کا براہ راست بوجھ صوبائی خزانے پر پڑتا ہے جو پہلے ہی صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے اخراجات پورا کرنے کے لیے مشکلات کا شکار ہے۔

ایک عام شہری کے لیے ان لاکھوں روپے کے گھپلوں کا مطلب یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی بہتری یا طلبہ کی سہولیات کے لیے فنڈز کم پڑ جاتے ہیں۔ کمیٹی کا مؤقف ہے کہ وہ ادارے جو سیلف سپورٹ پروگراموں اور شام کی کلاسز کے ذریعے خود کمائی کرتے ہیں، انہیں اپنے بقایا جات خود کلیئر کرنے چاہئیں نہ کہ ہر بار حکومت کی طرف دیکھنا چاہیے۔

پی اے سی کی ہدایت کے اہم نکات

کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ احکامات محض زبانی جمع خرچ نہیں ہیں بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور ایچ ای ڈی کے لیے سخت جوابدہی کا تقاضا کرتے ہیں۔

  • گزشتہ پانچ مالی سالوں کے زیر التواء آڈٹ پیراز پر فوری عمل درآمد۔
  • یوٹیوب بلوں، کمرشل کرایوں اور سرکاری ایڈوانس کی وصولی کے لیے سخت ڈیڈ لائنز۔
  • ڈیفالٹرز کے خلاف کارروائی میں ناکام رہنے والے فنانس ڈائریکٹرز کے خلاف تادیبی قدم۔
  • کمیٹی سیکرٹریٹ کو باقاعدگی سے پیش رفت کی رپورٹس ارسال کرنا۔

طلبہ اور اساتذہ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

اگر آپ پنجاب کی کسی بھی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں یا پڑھا رہے ہیں، تو آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس سختی کا کیمپس کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔ اگرچہ انتظامیہ اپنے بجٹ کو متوازن کرنے کے لیے دوڑ دھوپ کرے گی، لیکن طلبہ کو فیسوں میں اچانک تبدیلیوں یا غیر ضروری ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگنے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم حکومت کا اصرار ہے کہ تعلیمی بجٹ، وظائف اور اساتذہ کی تنخواہیں اس عمل سے محفوظ رہیں گی۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

اگلے ایک ماہ کے دوران لاہور، فیصل آباد اور ملتان کی بڑی یونیورسٹیوں کے سینڈیکیٹ اور سینیٹ کے اجلاسوں پر نظر رکھیں۔ امکان ہے کہ وائس چانسرز صوبائی ادارے کو مطمئن کرنے کے لیے اندرونی کمیٹیاں تشکیل دیں گے۔ اگر ایچ ای ڈی نے اس حکم پر سختی سے عمل کیا، تو اس سمسٹر سے یونیورسٹیز میں فیسوں کی وصولی کے اصول اور بجٹ کنٹرول مزید سخت ہو جائیں گے۔