پاکستان اور چین کی مشترکہ کمپنی شاہزاد اینڈ شاو (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو گوادر میں گدھے کی چمڑے سے جلاتین نکالنے کی فیکٹری کے لیے چار ایکڑ اراضی الاٹ کر دی گئی ہے۔ یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت پاک چین لائیوسٹاک ویلیو چین ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کا حصہ ہے۔

زمین کی الاٹمنٹ کی تصدیق 12 جون 2026 کو گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) نے کی۔ کمپنی کا مقصد گدھے کی چمڑے سے فارماسیوٹیکل گریڈ جلاتین نکالنا ہے جو روایتی چینی دوا اور دیگر ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فیکٹری چین اور علاقائی مارکیٹوں کو جلاتین برآمد کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

فیکٹری کیا کرے گی

- گدھے کی چمڑے کو ادویاتی معیار کے جلاتین میں تبدیل کرنا جو چین اور دیگر ممالک کو برآمد کیا جائے گا۔
- گوادر میں براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جن میں مویشیوں کی خریداری، چمڑے کی پروسیسنگ اور لاجسٹکس شامل ہیں۔
- مقامی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ، خاص طور پر بلوچستان اور پنجاب کے وہ کسان جو چھوٹے پیمانے پر گدھے پالتے ہیں۔

فیکٹری کی مئی 2027 تک آپریشن شروع کرنے کی توقع ہے، لیکن اس سے پہلے پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ایپا) اور گوادر بندرگاہ اتھارٹی سے حتمی ماحولیاتی اور حفاظتی منظوری لینا ضروری ہوگا۔ جی ڈی اے نے ابھی تک لیز کے معاہدے یا سرمایہ کاری کی رقم کا انکشاف نہیں کیا ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ گوادر کو بندرگاہ پر مبنی صنعتوں سے آگے بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

گوادر کو کیوں چنا گیا؟

گوادر کی فری زون کی حیثیت اور چین سے قربت اسے برآمدی مقاصد کے لیے ایک اہم مقام بناتی ہے۔ گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ میں پہلے سے ہی فوڈ پروسیسنگ، سمندری غذا اور ادویات کی فیکٹریاں موجود ہیں، لیکن یہ پہلا بڑا جانوروں کی چمڑے پر مبنی منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ قومی لائیوسٹاک ڈویلپمنٹ پالیسی 2025 کے تحت غیر روایتی برآمدات میں اضافے کے پاکستان کے بڑے مقصد کا بھی حصہ ہے۔

بلوچستان، جہاں پاکستان کے زیادہ تر گدھے پالے جاتے ہیں، اس سے براہ راست فائدہ اٹھائے گا۔ صوبے میں تقریباً 1.2 ملین گدھے ہیں، جو لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ بلوچستان (2025 کے اعداد و شمار) کے مطابق ہیں۔ ضلع کلات، خضدار اور لسبیلہ کے کسانوں کو توقع ہے کہ اگر فیکٹری مقامی طور پر چمڑے کی خریداری کرے تو ان کی آمدنی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ فی الحال زیادہ تر خام چمڑے چین کو برآمد کیے جاتے ہیں۔

کسانوں اور برآمد کنندگان کے لیے کیا مطلب ہے

- گدھے کی چمڑے کی بہتر قیمت: پراسیس شدہ چمڑے خام چمڑے کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔
- نئی مارکیٹ تک رسائی: پاکستانی جلاتین چین کے اجیاؤ انڈسٹری میں داخل ہو سکے گا، جس کی سالانہ مالیت 12 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
- فراہمی کے خطرات: اگر طلب بڑھتی ہے تو بلوچستان میں گدھوں کی آبادی پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جس سے اخلاقی اور پائیداری کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس منصوبے پر مویشیوں کی ایسوسی ایشنز نے محتاط خوشی کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان لائیوسٹاک فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر اللہ دتہ نے نیا پاکستان کو بتایا کہ اگرچہ یہ فیکٹری آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن کسانوں کو اس بات کی ضمانت چاہیے کہ کمپنی منصفانہ قیمتوں پر چمڑے کی خریداری کرے گی اور درمیانے والوں کا استحصال نہ کرے گی۔

ریگولیٹری اور ماحولیاتی رکاوٹیں

فیکٹری کو پاکستان کے اینیمل بائی پراڈکٹس رولز 2023 اور بین الاقوامی حفظان صحت کے معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔ پاک ایپا نے گوادر کے رہائشی علاقوں کے قریب ہونے کی وجہ سے فضائی آلودگی اور بدبو پر تشویش ظاہر کی ہے۔ جی ڈی اے نے حتمی منظوری دینے سے پہلے عوامی سماعت کا وعدہ کیا ہے۔

قارئین کے لیے اگلے اقدامات

- بلوچستان اور پنجاب کے کسان: اپنی مقامی لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کریں تاکہ خریداری کے ٹینڈروں کے بارے میں آگاہ رہیں۔ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پارک) اگست 2026 تک گدھے پالنے کے بہترین طریقوں پر ہدایات جاری کرے گی۔
- برآمد کنندگان اور سرمایہ کار: انویسٹمنٹ بورڈ آف پاکستان (بی او آئی) کی جانب سے سی پیک کے تحت لائیوسٹاک پروسیسنگ پر ٹیکس مراعات پر اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔
- عام صارفین: فیکٹری کی پیداوار سے فی الحال مقامی جلاتین کی قیمتوں پر فوری اثر نہیں پڑے گا، لیکن طویل المدت طور پر مقامی ادویات اور فوڈ انڈسٹری کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

اہم رابطے اور وسائل

- گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے): www.gwadar.gov.pk | +92-86-4150101
- بلوچستان لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ: www.balochistanlivestock.gov.pk | +92-81-9201301
- پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ایپا): www.environment.gov.pk | +92-51-9208051

---

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
1. اگر آپ بلوچستان یا پنجاب میں گدھے پالتے ہیں تو مقامی لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹر کریں تاکہ خریداری کے مواقع کے بارے میں آگاہ رہیں۔
2. جی ڈی اے کی ویب سائٹ پر ماحولیاتی منظوریوں اور ملازمتوں کے اعلانات پر نظر رکھیں۔
3. بی او آئی کے سی پیک اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں تاکہ ملحقہ صنعتوں (چارہ سپلائرز، ٹرانسپورٹرز) کے لیے ممکنہ ٹیکس چھوٹ یا سبسڈی کے بارے میں پتہ چل سکے۔

---

یہ منصوبہ پاکستان کی خام زرعی برآمدات میں اضافہ کرنے کی صلاحیت کا ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ اگر کامیاب ہوتا ہے تو یہ چمڑے، اون اور دودھ جیسی صنعتوں کے لیے ایک نمونہ بن سکتا ہے، جو پاکستان کے لائیوسٹاک سیکٹر کو ایک لاگت کا مرکز بنانے کی بجائے آمدنی کا ذریعہ بنا سکتی ہے۔