پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران اپنے مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک محدود کر لیا ہے، جو کہ ملکی تاریخ کی کم ترین سطح ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس سال بجٹ خسارہ 3.3 ٹریلین روپے رہا، جسے ماہرین معیشت حکومتی اخراجات میں کمی اور ٹیکس وصولیوں میں بہتری کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
پاکستان میں مالیاتی خسارے کی اہمیت
عام شہری کے لیے پاکستان میں مالیاتی خسارے کا مطلب وہ فرق ہے جو حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان پایا جاتا ہے۔ جب یہ خسارہ زیادہ ہوتا ہے تو حکومت کو قرضے لینے پڑتے ہیں، جس سے مہنگائی اور شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے۔ 2.6 فیصد کی سطح پر آنا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت نے اپنے اخراجات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی ہے۔
ماضی میں پاکستان اکثر دوہرے ہندسوں کے خسارے کا شکار رہا ہے، جس کی وجہ سے آئی ایم ایف جیسے اداروں سے بیل آؤٹ پیکجز کی ضرورت پڑتی رہی ہے۔ یہ نئی پیش رفت معاشی نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
عام آدمی پر اس کا اثر
اگرچہ یہ ایک اچھا معاشی اشاریہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا آپ کی جیب پر کیا اثر پڑے گا؟ جب حکومت کا خسارہ کم ہوتا ہے تو اسے بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ اس سے نجی شعبے کے لیے قرضے حاصل کرنا آسان ہو سکتا ہے، جس سے کاروبار میں وسعت آ سکتی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو روپے کی قدر میں استحکام اور مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔
تاہم، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا یہ کمی ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی کے ذریعے کی گئی ہے یا اصل آمدنی بڑھنے سے۔ عوام کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ معاشی بہتری عام آدمی کی زندگی میں آسانی لائے گی یا نہیں۔
آئندہ کے لیے اہم نکات
مستقبل میں درج ذیل معاملات پر نظر رکھنا ضروری ہوگا:
- ایف بی آر کے ٹیکس اہداف کا حصول۔
- اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ تبدیلیاں۔
- کیا حکومت اس بچت کو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرے گی؟
فی الحال 2.6 فیصد کا ہندسہ ایک اہم سنگ میل ہے۔ وزارت خزانہ کی سہ ماہی رپورٹس پر نظر رکھنا ضروری ہوگا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا یہ معاشی نظم و ضبط برقرار رہ پائے گا یا نہیں۔
