ور্ল্ড بینک کی ایک تازہ ترین اور تشویشناک رپورٹ کے مطابق، AI job displacement in Pakistan کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ملک کے علمی اور تکنیکی شعبے شدید زد میں ہیں۔ دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی ترقی پر اربوں ڈالر جھونک رہی ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں روایتی اور ڈیجیٹل ملازمتوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ہزاروں نوجوان جو فری لانسنگ اور ریموٹ جابز سے وابستہ ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال الارمنگ ہے۔

پاکستان کی آئی ایس ایکسپورٹس اور ڈیجیٹل اکانومی کے لیے یہ ایک بڑا دھکا ثابت ہو سکتا ہے۔ عام طور پر ڈیٹا انٹری، بنیادی کوڈنگ، مواد کی تیاری اور گرافک ڈیزائننگ جیسے کام پاکستانی نوجوانوں کی بنیادی کمائی کا ذریعہ رہے ہیں۔ لیکن اب جেনریٹو ٹولز یہ تمام کام سیکنڈوں میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مقامی سافٹ ویئر ہاؤسز کو اب فوری طور پر اپنی صلاحیتیں اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ غیر ملکی کلائنٹس انہیں یکسر نظر انداز کر دیں گے۔

فری لانسنگ اور آئی ٹی سیکھنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

پاکستان دنیا بھر میں فری لانسنگ کرنے والی سرفہرست اقوام میں شامل ہے، جہاں لاکھوں نوجوان بیرون ملک سے زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ تاہم، ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ بنیادی درجے کی ڈیجیٹل نوکریاں تیزی سے ختم ہو رہی ہیں کیونکہ مصنوعی ذہانت کے سسٹمز نے آسان کوڈنگ اور لکھائی کا کام سنبھال لیا ہے۔ اب جو کلائنٹس پاکستانی گریجویٹس کو ویب ڈیولپمنٹ یا کاپی رائٹنگ کے لیے رکھتے تھے، وہ خودکار سسٹمز کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

یہ تبدیلی ہماری معیشت کے اس حصے پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے جو نچلی سطح پر زرمبادلہ پیدا کرتا ہے۔ جب غیر ملکی کلائنٹس بنیادی ڈیجیٹل کام خودکار ذرائع سے کروانے لگیں گے، تو نئے گریجویٹس کے لیے مارکیٹ میں قدم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ اس بحران کا اثر صرف فری لانسرز تک محدود نہیں بلکہ کارپوریٹ سیکھنے والوں، کسٹمر سپورٹ نمائندوں اور جونیئر اکاؤنٹنٹس کے لیے بھی ملازمت کے مواقع کم ہو رہے ہیں۔

حکومت اور تعلیمی اداروں کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر پالیسی سازوں نے بروقت قدم نہ اٹھایا تو ہمارے ڈیجیٹل ورکرز کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کو فوری طور پر یونیورسٹیوں کے نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

  • بڑے شہروں میں جدید اے آئی ٹریننگ کے مراکز قائم کیے جائیں۔
  • عالمی ٹیک کمپنیوں کے تعاون سے سرٹیفائیڈ کورسز متعارف کروائے جائیں۔
  • اعلیٰ درجے کی سافٹ ویئر پروڈکشن کرنے والے اداروں کو ٹیکس مراعات دی جائیں۔
  • متاثرہ ڈیجیٹل ورکرز کے لیے ری اسکلنگ گرانٹس اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

آپ کو اپنے کیریئر کو بچانے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟

اگر آپ اس وقت ڈیجیٹل سیکٹر میں کام کر رہے ہیں، تو حکومت کی پالیسی کا انتظار کرنے کی بجائے خود کو بدلیں۔ عام ترجمانی، لوگو ڈیزائننگ یا روایتی کوڈنگ جیسی عام سروسز دینا بند کریں کیونکہ الگورتھمز ان کاموں کو انسانوں سے کہیں زیادہ تیزی سے کر رہے ہیں۔

اس کے بجائے، خود کو ایک 'اے آئی آرکیسٹریٹر' کے طور پر پیش کریں جو پیچیدہ پراجیکٹس اور سسٹمز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو اپنے روزمرہ کے کام کا حصہ بنائیں تاکہ آپ کی پیداواری صلاحیت بڑھ سکے۔ کلائنٹس اب محض گھنٹوں کے حساب سے ادائیگی نہیں کرتے بلکہ وہ مسئلے کے حل اور انسانی ذہانت کے قائل ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی جانب سے ٹیکنالوجی اسلز سبسڈی کے اعلانات پر نظر رکھیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ مقامی ٹیک ادارے اس تبدیلی کا کس طرح مقابلہ کرتے ہیں۔ اے آئی کی رفتار تیز ہے، اور اگلے چند ماہ یہ فیصلہ کریں گے کہ ہمارا ورچوئل ورکر اس کے ساتھ کیسے چلتا ہے۔