پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے غزہ میں طبی تنصیبات کو نشانہ بنانے والی جاری اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے، کیونکہ غزہ کے ہسپتالوں پر حملوں کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اعلیٰ سطحی سفارتی مشاورت کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں ان اقدامات کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

غزہ کے ہسپتالوں پر حملوں پر عالمی ردعمل

مشترکہ اعلامیے میں شہری ڈھانچے، خاص طور پر ہسپتالوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جو خطے میں تنازعہ کا مرکزی نقطہ بن چکے ہیں۔ طبی سہولیات پر حملوں کے علاوہ، آٹھ رکنی اتحاد نے یروشلم کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی اسرائیل کی کوششوں کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ گروپ نے واضح کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں نئی غیر قانونی بستیوں کا قیام نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ مستقبل میں امن کے عمل کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

بدھ کے روز، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اردن میں ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کی تاکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور مشرقی یروشلم کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ پاکستان کا موقف مسلسل یہ رہا ہے کہ عالمی برادری کو بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ دفتر خارجہ نے اعادہ کیا ہے کہ غزہ میں شہریوں، ڈاکٹروں اور مریضوں کی حفاظت عالمی برادری کے لیے اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے اس کے اثرات

اگر آپ پاکستان کی سفارتی مصروفیات پر غزہ کے ہسپتالوں کی صورتحال کے اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تو یہ اتحاد مسلم اکثریتی ریاستوں کی جانب سے بین الاقوامی فورمز پر دباؤ ڈالنے کی ایک مربوط کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ وزارت خارجہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداریوں کے لیے لابنگ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ طبی سامان اور امداد متاثرہ علاقوں تک پہنچ سکے۔

پاکستان کی ان ہنگامی اجلاسوں میں شرکت 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی حل کے لیے اس کے عزم کو ظاہر کرتی ہے، جس میں القدس الشریف فلسطین کا دارالحکومت ہو۔ حکومت نے زور دیا ہے کہ اگر فوری جنگ بندی نہ ہوئی تو غزہ میں انسانی المیہ ناقابلِ تلافی ہو جائے گا۔

باخبر کیسے رہیں اور آگے کیا دیکھنا ہے

جیسے جیسے حالات بدل رہے ہیں، آپ کو پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے سرکاری اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔ توقع ہے کہ حکومت آنے والے ہفتوں میں اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) میں اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گی۔

  • انسانی امداد کی ترسیل سے متعلق اپ ڈیٹس کے لیے دفتر خارجہ کی پریس ریلیز کو فالو کریں۔
  • غزہ میں ہسپتالوں کی آپریشنل حیثیت کے بارے میں عالمی ادارہ صحت (WHO) کی رپورٹس پر نظر رکھیں۔
  • اردن اجلاس کے بعد منعقد ہونے والے آئندہ ہنگامی سربراہی اجلاسوں کے بارے میں اپ ڈیٹس حاصل کریں۔

اگرچہ بین الاقوامی سفارتی دباؤ اب بھی بنیادی ذریعہ ہے، تاہم ان مذمتوں کی تاثیر بڑی عالمی طاقتوں کے ردعمل پر منحصر ہے۔ آنے والے دن یہ طے کرنے میں اہم ہوں گے کہ کیا عالمی برادری لڑائی میں مستقل وقفہ حاصل کر سکتی ہے۔