پاکستان اور بھارت نے سفارتی عملے کے لیے پاکستانی اور بھارتی سفارت خانوں کے درمیان پاکستان بھارت ویزا کا اجراء باضابطہ طور پر دوبارہ شروع کر دیا ہے جس سے اسلام آباد اور نئی دہلی میں خالی پڑی آسامیاں پر ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ وزارت خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کی طرف سے قریباً ایک درجن اسائنمنٹ ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔ اگر آپ کسی سرکاری پوسٹنگ کی تیاری کر رہے ہیں یا سفارتی عملے کے انتظامی امور دیکھ رہے ہیں، تو اس تعطل کے ختم ہونے کا مطلب ہے کہ تعطل کا شکار فائلیں اب آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس عمل کے لیے دفتر خارجہ کے وضع کردہ ضابطوں پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے۔
کون سے لوگ اسائنمنٹ ویزے کے اہل ہیں
ہر سرکاری ملازم یا مسافر اس بحال شدہ زمرے میں نہیں آتا، کیونکہ موجودہ منظوری کا اطلاق صرف منظور شدہ سفارتی اور قونصلر عملے پر ہوتا ہے۔ آپ تبھی اہل ہیں جب آپ کے پاس سرکاری یا سفارتی پاسپورٹ ہو اور آپ کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن یا اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعیناتی کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا ہو۔ انتظامی عملہ، اتاشی اور نامزد سفارتی افسران اس کھیپ میں شامل ہیں۔ عام شہریوں کے لیے سیاحتی، کاروباری یا طبی ویزا کی عام اقسام اس سفارتی زمرے سے بالکل الگ ہیں اور اس انتظامی پیش رفت سے متاثر نہیں ہوئیں。
مطلوبہ دستاویزات اور تصدیقی مراحل
ویزا کلیئرنس حاصل کرنے کے لیے سیکیورٹی اداروں سے تصدیق شدہ کاغذات کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ عام سفری فارم لے کر قونصل خانے نہیں جا سکتے۔
- وزارت خارجہ یا متعلقہ ہائی کمیشن کی طرف سے جاری کردہ آفیشل نوٹ وربیل۔
- مہر اور دستخط کے ساتھ مکمل شدہ سفارتی ویزا درخواست فارم۔
- نامزد افسر کا تفصیلی بائیو ڈیٹا اور سروس ریکارڈ۔
- متعلقہ انٹیلی جنس اور وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ سیکیورٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ۔
ایک بار جب یہ دستاویزات تیار ہو جائیں، تو متعلقہ پروٹوکول ڈویژن سفارتی ذرائع سے ان کا تبادلہ کرتے ہیں۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر تعطل کے دوران آپ کی پوسٹنگ رکی ہوئی تھی، تو آپ کو فوری طور پر اپنے محترمہ کے پرسنل ونگ کے ذریعے اپنی فعال حیثیت کی تصدیق کرانی چاہیے۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے پروٹوکول ڈویژن سے رابطہ کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ کے سیکیورٹی ڈوزیئرز تازہ ترین بائیو میٹرک ریکارڈ کے ساتھ اپ ڈیٹ ہیں۔ پچھلی کلیئرنس پر بھروسہ نہ کریں؛ تاخیر کے مہینوں میں اگر کوئی مدت ختم ہوئی ہے تو پاسپورٹ پر مہر لگنے سے پہلے دوبارہ تصدیق لازمی کرائی جائے۔
آگے کیا دیکھنا ہے
اس بات پر نظر رکھیں کہ آیا سفارتی تعیناتیوں کی یہ بحالی وسیع تر قونصلر کارروائیوں کو نرم کرتی ہے یا صحافیوں اور بزرگ شہریوں کے لیے پابندیوں میں کمی لاتی ہے۔ اگرچہ یہ قدم صرف مشن کے عملے تک محدود ہے، لیکن یہ دو طرفہ رابطے کی طرف واپسی کا اشارہ ہے۔ اس سہ ماہی کے آخر میں انتظامی عملے کی تبدیلی کے اعلانات پر بھی نظر رکھیں۔
