پاکستان اور ایران نے باہمی اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاک ایران تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کا نیا اور بڑا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ دونوں ہمسایه ممالک کے درمیان تجارتی راہداریوں کی بہتری، سرحدی منڈیوں کے قیام اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ماضی میں بینکاری کے مسائل اور غیر رسمی تجارتی راستوں کی وجہ سے سرکاری اعداد و شمار خاطر خواہ نہیں رہے، جنہیں اب باضابطہ ضابطے بنا کر بہتر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سرحدی تجارت کی رکاوٹیں دور کرنے کے اقدامات
اس ہدف کے حصول کے لیے صرف سفارتی بیانات کافی نہیں بلکہ بلوچستان بالخصوص تفتان اور مند کے سرحدی مقامات پر بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا ہوگا۔ زرعی اجناس اور دیگر سامان لے جانے والے ٹرکوں کو اکثر کسٹم چوکیوں پر طویل تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور ایرانی حکام نے کلیئرنس کے طریقہ کار کو آسان بنایا تو سامان کی آمدورفت میں تیزی آئے گی۔ حالیہ مذاکرات میں سرحدی sustenance مارکیٹس کو فعال کرنے اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
بینکاری کے نظام اور ادائيگی کے ذرائع
رسمی تجارت کو اس وقت تک فروغ نہیں مل سکتا جب تک سرحد پار ادائیگیوں کا کوئی محفوظ نظام موجود نہ ہو۔ ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے تاجروں کو روایتی بنکنگ چینلز کے بجائے غیر رسمی طریقوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے قانونی خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بارٹر ٹریڈ اور مقامی کرنسی میں لین دین کے میکانزم کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایک فعال بنکنگ رابطہ قائم کرنا اس تجارتی ہدف کے حصول کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
مقامی مارکیٹوں پر اس کے اثرات
اس تجارتی ہدف کے پورا ہونے سے بالخصوص جنوب مغربی پاکستان میں روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ سرحدی اضلاع کے لیے سستی توانائی اور دیگر اشیاء کی فراہمی سے مقامی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ تاہم، اگر ایرانی مصنوعات بغیر کسی ضابطے کے مقامی مارکیٹ میں آئیں تو پاکستانی کسانوں اور کارخانوں کو مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزارت تجارت کو درآمدی نرمی اور مقامی صنعتوں کے تحفظ کے درمیان توازن رکھنا ہوگا۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ مغربی سرحد کے آر پار تجارت یا برآمدات سے وابستہ ہیں، تو وزارت تجارت کی جانب سے آنے والے نئے نوٹیفیکیشنز پر گہری نظر رکھیں۔ جب تک اسٹیٹ بینک باضابطہ بنکاری نظام کا اعلان نہیں کرتا، غیر رسمی راستوں کے ذریعے بڑی سرمایہ کاری کرنے سے گریز کریں۔ کسٹم کے امور میں کسی بھی تبدیلی کے لیے اپنے کلیئرنگ ایجنٹ سے باقاعدہ رابطہ رکھیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آئندہ چند ہفتوں میں ہونے والے وزارتی سطح کے اجلاسوں پر نظر رکھیں جہاں اس 10 ارب ڈالر کے ہدف پر عمل درآمد کا شیڈول طے کیا جائے گا۔ مرکزی بینکوں کی جانب سے کسی بھی نئے مالیاتی معاہدے یا ادائیگی کے نظام کے اعلان کا انتظار کریں۔
