پاکستان اور روس زرعی شعبے میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے پاکستان روس تجارت کو وسعت دینے کے لیے فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس شراکت داری میں جدید زرعی مشینری، کیمیائی کھادیں، کیڑے مار ادویات اور مویشیوں کی ویکسین شامل ہیں۔ پیر 11 مارچ 2024 کو اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ان امور پر تفصیل سے غور کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں زرعی مداخل کی کمی کو پورا کرنا اور روسی مصنوعات کے لیے نئی مارکیٹیں تلاش کرنا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کا زرعی شعبہ پیداواری لاگت میں اضافے، مہنگے ایندھن اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ روسی مینوفیکچرنگ اور کیمیائی مہارت سے فائدہ اٹھا کر حکومت ملک میں یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی سپلائی کو مستحکم بنانا چاہتی ہے۔
مجوزہ معاہدے کے اہم نکات
- اسٹریٹجک توجہ: روس میں بنے ٹریکٹرز، ہارویسٹرز اور دیگر زرعی آلات کی درآمد۔
- کھاد کی فراہمی: مغربی ممالک کے مہنگے راستوں کے بجائے براہ راست روس سے یوریا اور پوٹاش کھاد حاصل کرنا۔
- مویشیوں کا تحفظ: منہ کھر کی بیماری (FMD) اور دیگر امراض سے بچاؤ کے لیے روسی ویکسین کی درآمد۔
- کیڑے مار ادویات: مقامی مارکیٹ میں سستی اور مؤثر روسی کیڑے مار ادویات متعارف کروانا۔
زرعی مداخل پر توجہ کیوں دی جا رہی ہے؟
پاکستان کا زرعی شعبہ ملکی جی ڈی پی میں 22 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے لیکن یہ عالمی سپلائی چین کے جھٹکوں سے شدید متاثر ہوتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں مقامی سطح پر کھاد کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، اور گیس کی قلت کے باعث مقامی پلانٹس بند ہونے کی وجہ سے یوریا بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت ہوتی رہی ہے۔
روس سے کھاد کی براہ راست درآمد سے مقامی کسانوں کے لیے قیمتیں مستحکم ہو سکتی ہیں۔ روس نائٹروجن، پوٹاش اور فاسفیٹ برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ حکومت سے حکومت (G2G) کی سطح پر یا نجی شعبے کے ذریعے براہ راست تجارت سے تیسرے فریق کا منافع ختم ہو جائے گا، جس سے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے چھوٹے کسانوں کو سستی کھاد دستیاب ہو سکے گی۔
پاک روس تجارتی توسیع کی تفصیلات
پاکستان روس تجارت کے حوالے سے جاری مذاکرات صرف خام معدنیات تک محدود نہیں ہیں۔ روسی تجارتی نمائندوں نے بھاری زرعی مشینری برآمد کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جو اپنی پائیداری کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
پاکستانی کسانوں کے لیے سستے روسی ٹریکٹرز اور ہارویسٹرز تک رسائی زرعی شعبے میں جدت لانے کا باعث بنے گی۔ اس وقت روپے کی قدر میں کمی اور بھاری امپورٹ ڈیوٹی کی وجہ سے یورپی اور امریکی مشینری عام زمیندار کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔
مزید برآں، لائیو اسٹاک کا شعبہ بھی روسی ویکسینز سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کی زراعت میں لائیو اسٹاک کا حصہ 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ منہ کھر جیسی بیماریاں ڈیری فارمرز کو ہر سال اربوں روپے کا نقصان پہنچاتی ہیں۔ روسی ویکسین کی درآمد سے جانوروں کو محفوظ بنا کر دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
کسانوں اور کاروباری برادری کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
اگر آپ زرعی درآمد کنندہ، ڈسٹری بیوٹر یا کسان ہیں، تو اس تجارتی معاہدے سے آپ کے اخراجات پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:
- پیداواری لاگت میں کمی: روسی کھادوں تک براہ راست رسائی سے فی ایکڑ کاشتکاری کے اخراجات کم ہوں گے۔
- نئی ڈیلرشپ کے مواقع: مقامی مشینری ڈیلرز جلد ہی روسی ٹریکٹر برانڈز کی ڈسٹری بیوشن کے حقوق حاصل کر سکیں گے۔
- فصلوں کی بہتر پیداوار: روسی کیڑے مار ادویات کپاس، گندم اور چاول کی فصلوں کو نئے کیڑوں کے حملوں سے بچانے میں مدد دیں گی۔
تاہم، بین الاقوامی ادائیگیوں کے طریقہ کار اور کراچی یا گوادر کی بندرگاہوں کے ذریعے سامان کی ترسیل کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) اور کمرشل بینکوں کو پابندیوں کے خطرات سے بچنے کے لیے محتاط منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔
آپ کو آگے کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ زراعت یا امپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں، تو درج ذیل اقدامات پر غور کریں:
1. درآمدی کوٹے پر نظر رکھیں: وزارتِ قومی غذائی تحفظ کی جانب سے کھاد اور ویکسین کے امپورٹ کوٹے کے اعلانات کی نگرانی کریں۔
2. تجارتی تنظیموں سے رابطہ کریں: چیمبرز آف کامرس یا پاکستان ایگریکلچرل مشینری مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMIMA) کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ وفود کے تبادلوں سے باخبر رہ سکیں۔
3. مشینری کی ضروریات کا جائزہ لیں: اگر آپ اپنے زرعی آلات کو اپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں، تو روسی مشینری کی قیمتوں اور خصوصیات کا یورپی یا چینی متبادلات سے موازنہ کریں۔
آگے کیا ہونے والا ہے؟
آنے والے مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر باقاعدہ دستخط متوقع ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ عالمی بینکنگ پابندیوں سے بچنے کے لیے مقامی کرنسیوں یا بارٹر ٹریڈ (تبادلے کی تجارت) کا طریقہ کار کس حد تک کامیاب رہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مقامی کھاد مینوفیکچررز روسی مسابقت کے جواب میں اپنی قیمتوں کا تعین کیسے کرتے ہیں۔
