پاکستان اور ترکیہ نے صحت کے شعبے میں تکنیکی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ مقامی طبی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ ترکیہ کا ایک اعلیٰ سطحی تکنیکی وفد اس وقت اسلام آباد میں موجود ہے جو دونوں ممالک کے درمیان طبی شعبے میں نئے تعاون کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔

پاکستان ہیلتھ سیکٹر میں بہتری کے اقدامات

پاکستان ہیلتھ سیکٹر کو جدید بنانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان نالج شیئرنگ اور ادارہ جاتی شراکت داری پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ترک وفد وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں کر رہا ہے تاکہ عوامی سطح پر صحت کی فراہمی میں موجود خلا کو پر کیا جا سکے۔ ترکیہ کے ہسپتال مینجمنٹ اور پبلک ہیلتھ انشورنس ماڈل سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان اپنے سروس ڈیلیوری کے نظام کو بہتر بنانے کا خواہشمند ہے۔

  • طبی ریگولیٹری اداروں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا۔
  • ڈیجیٹل ہیلتھ اور ٹیلی میڈیسن کے انفراسٹرکچر پر کام۔
  • پاکستانی طبی عملے کے لیے ترکیہ میں تربیت کے پروگرام۔
  • جدید طبی آلات کی خریداری کے لیے تکنیکی معاونت۔

عام شہریوں پر اثرات

ایک عام شہری کے لیے اس تعاون کا مطلب سرکاری ہسپتالوں کے انتظام میں بہتری اور علاج معالجے کی بہتر سہولیات تک رسائی ہے۔ حکومت کا مقصد ترکیہ کی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے بڑے شہری ہسپتالوں پر بوجھ کم کرنا اور انتظامی امور کو شفاف بنانا ہے۔ اگرچہ اب تک مالیاتی اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے، لیکن بنیادی توجہ تکنیکی صلاحیت بڑھانے پر مرکوز ہے۔

شراکت داری کا اگلا مرحلہ

ترک وفد آنے والے دنوں میں وفاقی دارالحکومت کے اہم طبی مراکز کا دورہ کرے گا۔ یہ دورے پاکستان کے ہیلتھ انفراسٹرکچر کی زمینی صورتحال کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ تکنیکی جائزے کے مکمل ہونے کے بعد، وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز مشترکہ منصوبوں کے روڈ میپ کا اعلان کرے گی۔

اگر آپ طبی شعبے سے وابستہ ہیں، تو وزارت کی سرکاری ویب سائٹ nhsrsc.gov.pk پر نظر رکھیں تاکہ تربیت کے مواقع اور ورکشاپس کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کر سکیں۔ اس تعاون کے اگلے مرحلے کا اعلان رواں سہ ماہی کے اختتام تک متوقع ہے۔