پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی تجارتی فریم ورک کے معاہدے کے حوالے سے جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریقین نے اس معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزارت تجارت کے حکام کے مطابق، اسلام آباد اور واشنگٹن میں ہونے والی دو طرفہ بات چیت کے دوران تجارتی خراج کو آسان بنانے اور امریکی منڈی میں پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے رسائی بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ حتمی نفاذ کی تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے، لیکن دونوں حکومتیں معاہدے کے متن کو جلد از جلد طے کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
تجارتی فریم ورک کے خدوخال
موجودہ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک ایسا قابلِ پیشگوئی تجارتی نظام وضع کرنا ہے جو پاکستان کے برآمدی شعبوں اور امریکی کاروباری اداروں دونوں کے لیے سودمند ہو۔ اسلام آباد میں تجارتی حکام نے ٹیکسٹ کسٹمز میں کمی، زرعی اجناس پر ٹیرف میں نرمی اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے امریکی سپلائی چینز تک آسان رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف، واشنگٹن نے پاکستان میں کام کرنے والی امریکی کمپنیوں کے لیے فکری ملکیت کے حقوق کے تحفظ، ڈیجیٹل تجارت اور شفاف ضابطہ کار کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزارت تجارت کا موقف ہے کہ اس متوازن معاہدے سے برآمدی حجم میں اضافہ ہوگا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
پس منظر اور معاشی تناظر
پاکستان اور امریکہ کے تجارتی تعلقات ماضی میں زیادہ تر سیکورٹی تعاون کے گرد گھومتے رہے ہیں، تاہم حالیہ عرصے میں معاشی سفارت کاری کو نئی رفتار ملی ہے۔ امریکہ پاکستانی مصنوعات بالخصوص ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات اور آئی ٹی سروسز کے لیے دنیا کی سب سے بڑی انفرادی برآمدی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت اربوں ڈالر تک پہنچی تھی، جس کی وجہ سے ایک باضابطہ تجارتی فریم ورک کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے۔ ماضی میں تجارتی مذاکرات اکثر ٹیرف کے تنازعات اور دانشورانہ املاک کے قوانین کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں، لیکن اس بار مذاکراتی ٹیموں نے مرحلہ وار حکمت عملی اختیار کی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کا تعلق ٹیکسٹائل، طبی آلات یا آئی ٹی کے شعبے سے ہے اور آپ برآمدات کے کاروبار سے وابستہ ہیں، تو آپ کو وزارت تجارت کی ویب سائٹ پر نظر رکھنی چاہیے۔ برآمد کنندگان کو چاہیے کہ وہ امریکی درآمدی معیار کے مطابق لیبر لاز، ماحولیاتی ضابطوں اور انٹلیکچوال پراپرٹی سے متعلق اپنے قواعد کو بہتر بنائیں۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) اس حوالے سے اپنے اراکین سے تجاویز جمع کر رہی ہے تاکہ آئندہ وزارتی مذاکرات میں انہیں پیش کیا جا سکے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
معاہدے کے حتمی متن اور وزارتی سطح پر دستخط کی تقریب کی تاریخ سے متعلق سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔ معاشی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس فریم ورک میں حقیقی ٹیرف چھوٹ شامل ہوگی یا یہ صرف ایک مشاورتی کمیٹی تک محدود رہے گا۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو ملنے والا اصل ریلیف اس بات پر منحصر ہوگا کہ معاہدے کے بعد وفاقی ادارے کتنی جلدی نئے ایس آر اوز کے ذریعے ان وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔
