پاکستان اور امریکہ کے درمیان باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک نئے پاک امریکہ تجارتی فریم ورک پر پیشرفت ہوئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ اقتصادی ٹیم اور امریکی تجارتی نمائندہ (USTR) کے درمیان ایک ورچوئل اجلاس میں مجوزہ تجارتی ڈھانچے پر اہم کام آگے بڑھایا گیا ہے۔
کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ کی کاروباری برادری طویل عرصے سے اسلام آباد سے مطالبہ کر رہی تھی کہ ٹیکسٹائل، آلہ جراحی اور زرعی مصنوعات کے لیے امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی حاصل کی جائے۔ تازہ ترین مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک تجارتی امور کو سلجھانے کے لیے بیوروکریٹک رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برآمد کنندگان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
ان مذاکرات کا مقصد سرخ فیتے کی دوڑ کو ختم کرنا اور ان رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جو پاکستانی شپments کو امریکی بندرگاہوں پر درپیش ہوتی ہیں۔ اگرچہ مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن اس فریم ورک میں ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ، ڈیجیٹل تجارت کے ضوابط اور مغربی مارکیٹوں کے تقاضے شامل ہیں۔
مقامی برآمد کنندگان کو طویل عرصے سے سرٹیفیکیشن کے مسائل اور زیادہ ترسیلی اخراجات کا سامنا رہا ہے۔ اگر یہ فریم ورک حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے شمالی امریکہ میں کاروبار بڑھانا آسان ہو جائے گا۔
- آم اور کینو جیسی زرعی برآمدات کے لیے کلیئرنس کے وقت میں بہتری۔
- پنجاب اور سندھ میں کام کرنے والی ٹیکسٹائل ملز کے لیے کمپلائنس کے مسائل میں کمی۔
- سپلائی چین متاثر ہونے سے پہلے تنازعات کے حل کے لیے میکانزم۔
اب واشنگٹن کیوں دلچسپی لے رہا ہے
امریکی پالیسی ساز جنوبی ایشیا میں سپلائی چین کو متنوع بنانے اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرنے کے خواہشمند ہیں۔ دوسری طرف اسلام آباد کے لیے برآمدات میں اضافہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ برقرار ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں دارالحکومتوں کے درمیان سیاسی تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے باوجود تجارتی سفارت کاری عملی بنیادوں پر جاری رہی ہے۔ امریکہ پاکستانی برآمدات کی سب سے بڑی منزلوں میں شامل ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کا تعلق برآمدی شعبے سے ہے یا آپ مینوفیکچرنگ یونٹس کو مال فراہم کرتے ہیں، تو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کے اعانات اور ہدایات پر نظر رکھیں۔ تجارتی ادارے جلد ہی نئے قوانین سے فائدہ اٹھانے کے لیے تجاویز جاری کریں گے۔
کاروباری افراد کو اپنے کوالٹی اشورینس کے نظام کا جائزہ لینا چاہیے۔ مغربی شراکت داروں کے ساتھ کسی بھی جدید تجارتی معاہدے کے تحت بین الاقوامی ماحولیاتی اور مزدوروں کے معیارات پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا
آنے والے ہفتوں میں وزارتِ تجارت اور یو ایس ٹی آر کے درمیان مزید ورچوئل مشاورت کی توقع ہے تاکہ مخصوص شعبوں کے کوٹے طے کیے جا سکیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ دونوں حکومتیں ان سفارتی باتوں کو عملی جامہ کیسے پہناتی ہیں۔
آنے والے مہینوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس اور کاروباری وفود کے دوروں کے حوالے سے اعلانات پر نظر رکھیں۔ ان ملاقاتوں سے واضح ہوگا کہ ابتدائی مرحلے میں کن صنعتوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
