پاکستان آرمی ایوی ایشن نے قراقرم کے سلسلے میں واقع براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے سے جاں بحق ہونے والے سات غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشیں نکالنے کا کامیاب ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا ہے۔ یہ براڈ پیک کوہ پیمائی ریکوری آپریشن حالیہ برسوں کے مشکل ترین ریسکیو مشنز میں سے ایک تھا، جس کی وجہ اس 8,051 میٹر بلند چوٹی کا دشوار گزار راستہ اور موسم کی غیر یقینی صورتحال تھی۔
براڈ پیک کوہ پیمائی ریکوری آپریشن کی تفصیلات
یہ آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب کوہ پیماؤں کے ایک بڑے برفانی تودے کی زد میں آنے کی تصدیق ہوئی۔ گلگت بلتستان میں واقع براڈ پیک کوہ پیماؤں کے لیے انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہے۔ آرمی ایوی ایشن کے پائلٹس نے شدید ہواؤں اور انتہائی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے مہارت کا مظاہرہ کیا اور ساتوں کوہ پیماؤں کی لاشیں تلاش کر کے انہیں نیچے منتقل کیا۔
اگرچہ جاں بحق ہونے والے کوہ پیماؤں کی شناخت کا عمل سفارتی ذرائع سے مکمل کیا جا رہا ہے، لیکن یہ واقعہ کوہ پیمائی کی دنیا کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ قراقرم کا سلسلہ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے جہاں برفانی تودے کسی بھی وقت گر سکتے ہیں۔
انتہائی بلندی پر ریسکیو کے چیلنجز
براڈ پیک کوہ پیمائی ریکوری جیسے مشن کبھی بھی آسان نہیں ہوتے۔ پاکستان آرمی ایوی ایشن کی یونٹس کو اکثر ایسی صورتحال میں طلب کیا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس بلندی پر پرواز کرنے کا وسیع تجربہ اور جدید آلات موجود ہیں۔ 8,000 میٹر کی بلندی پر ہوا کی کمی کے باعث ہیلی کاپٹر کے انجنوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، جس سے پائلٹس کے لیے غلطی کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
مقامی گائیڈز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اس مشن کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ آرمی ایوی ایشن کی بروقت کارروائی کے بغیر اتنی بلندی سے لاشوں کو واپس لانا زمینی ٹیموں کے لیے ناممکن حد تک مشکل تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
متعلقہ حکام کی جانب سے جاں بحق کوہ پیماؤں کی میتیں ان کے آبائی ممالک بھجوانے کے لیے قانونی اور سفارتی ضابطے مکمل ہونے کے بعد باضابطہ بیان جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو اسلام آباد میں ان کے متعلقہ سفارت خانوں کے ذریعے مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
کوہ پیمائی کے شوقین افراد کے لیے یہ واقعہ ایک انتباہ ہے کہ انتہائی بلندی پر چڑھائی کے دوران خطرات کتنے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ کوہ پیماؤں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ موسم کی پیشگوئیوں پر سختی سے عمل کریں اور سکردو اور اسلام آباد میں مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں۔ کوہ پیمائی کے سیزن کے حوالے سے تازہ ترین معلومات کے لیے الپائن کلب آف پاکستان کے اعلانات پر نظر رکھیں۔
