پاک فوج نے یومِ استحصال کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار جموں و کشمیر کے منصفانه حل پر ہے۔ فوجی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کشمیریوں کو ان کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق ملنا چاہیے۔ یومِ استحصال اگست 2019 میں مقوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے ردعمل میں ہر سال منایا جاتا ہے۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور سمیت ملک بھر میں اس دن کے حوالے سے خصوصی ریلیاں نکالی گئیں اور تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ آپ کو یہ جاننا ہوگا کہ اس سفارتی اور اخلاقی مؤقف کی وجہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کشمیر کا نکتہ ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

علاقائی امن اور سلامتی کونسل کی قراردادیں

عسکری قیادت نے دوٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ جب تک کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق نہیں ملتا خطے میں امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یکطرفہ اقدامات سے کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا۔

  • جنوبی ایشیا کا امن اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔
  • وادی میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔
  • جب تک سیاسی آزادی بحال نہیں ہوتی مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً یہ مؤقف اپنایا جاتا رہا ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ علاقے میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ وفاقی حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ اس وقت تک بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے جب تک کشمیر کے معاملے پر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہ ہو۔

ملی یکجہتی اور عوامی مظاہرے

ملک بھر میں یومِ استحصال پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا گیا اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔ سرکاری دفاتر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جبکہ تعلیمی اداروں میں مباحثے منعقد ہوئے جن کا مقصد نئی نسل کو تنازعہ کشمیر کی تاریخی حیثیت سے آگاہ کرنا تھا۔ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تمام جماعتوں نے اس قومی ایجنڈے پر یک زبان ہو کر کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی۔

ناظرین کے لیے آئندہ کے قابلِ دید امور

اگر آپ اس مسئلے پر نظر رکھنا چاہتے ہیں تو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آنے والے اجلاس کی کارروائی کو فالو کریں۔ اس کے علاوہ او آئی سی کے کشمیر رابطہ گروپ کے اعلامیے اس سلسلے میں اہم ترین سفارتی اشارے فراہم کریں گے۔ پاکستانی میڈیا پر بیرونِ ملک مقبوضہ کشمیر کے حق میں ہونے والے مظاہروں اور قانونی چارہ جوئی کی خبریں بھی مسلسل اپ ڈیٹ کی جاتی رہیں گی۔