اسلام آباد: پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں میں ہر ممکن مدد فراہم جاری رکھے گی۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی کاوشوں میں عالمی اداروں کے ساتھ کھڑا ہے۔
امدادی سرگرمیوں میں سہولت کاری
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے اندر ضرورت مند اور مستحق افراد تک امدادی سامان کی بروقت رسائی کو یقینی بنانا بین الاقوامی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ عام افغان شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے سیاسی اختلافات کو انسانی امداد کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے سرحدی گزرگاہوں پر امدادی قافلوں اور سامان کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جا رہا ہے۔
علاقائی استحکام اور انسانی بنیادیں
افغانستان میں جاری معاشی اور انسانی چیلنجز کے پیش نظر پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ بین الاقوامی امداد بلا تعطل مستحقین تک پہنچے تاکہ وہاں کے شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے.
آگے کیا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں اسلام آباد اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے درمیان سرحدی انتظام اور امدادی کارروائیوں کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت متوقع ہے۔ سفارتی حلقے اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ عالمی امداد کی تقسیم کے نظام کو کس طرح مزید شفاف بنایا جاتا ہے۔
