پاکستان بار کونسل (PBC) نے نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے اپنا اہم مؤقف جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں انتظامی یونٹس کی تشکیل صرف آئینی، پارلیمانی طریقہ کار اور قومی اتفاقِ رائے کے تحت ہی ممکن ہونی چاہیے۔
لاہور میں ہونے والے پاکستان بار کونسل کے 250 ویں اجلاس میں اس حوالے سے ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔ کونسل کی قیادت کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام محض سیاسی مفادات یا لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ہونا چاہیے۔
نئے صوبوں کے قیام پر پاکستان بار کونسل کا موقف
پاکستان بار کونسل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا عمل شفاف ہونا چاہیے تاکہ قومی یکجہتی متاثر نہ ہو۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں بغیر کسی وسیع تر مشاورت کے اس عمل کو آگے بڑھاتی ہیں تو یہ ملک میں آئینی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کو اس معاملے پر غیر جانبدارانہ بحث کرنی چاہیے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ وہ اس پورے عمل کی کڑی نگرانی کرے گی تاکہ آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔
آئینی تقاضے اور مستقبل کا لائحہ عمل
موجودہ آئینی ڈھانچے کے تحت کسی بھی نئے صوبے کے قیام کے لیے درج ذیل مراحل ضروری ہیں:
- قومی اسمبلی اور سینیٹ میں واضح قانون سازی کی قرارداد۔
- متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی منظوری۔
- آئینی ترامیم کے ذریعے وفاقی اور صوبائی اختیارات کا تعین۔
- عوامی رائے دہی اور مشاورت کا عمل۔
پاکستان بار کونسل کا یہ مؤقف ان سیاسی جماعتوں کے لیے ایک انتباہ ہے جو انتخابی مہم کے دوران نئے صوبوں کے وعدے تو کرتی ہیں لیکن عملی طور پر آئینی تقاضوں کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔
عوام کو کیا کرنا چاہیے؟
آنے والے دنوں میں عوام کو یہ دیکھنا ہوگا کہ بڑی سیاسی جماعتیں اس قانونی نکتے پر کیا ردعمل دیتی ہیں۔ اگر پارلیمنٹ میں اس حوالے سے کوئی بل پیش کیا جاتا ہے، تو یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے یا نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ معاملہ آنے والے وقتوں میں عدالتوں تک بھی پہنچ سکتا ہے، اس لیے بار کونسل کا یہ فیصلہ ایک قانونی معیار کے طور پر استعمال ہوگا۔
