پاکستان نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل (UNSC) کے حالیہ اجلاس میں یوکرین تنازعہ کے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی سختی سے پابندی کریں اور جنگی قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ نیویارک میں منعقدہ اس 'آریا فارمولا' اجلاس کے دوران پاکستان نے واضح کیا کہ جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور تمام مسائل کا حل صرف سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سفارت کاری کی اہمیت

پاکستان کی جانب سے اس موقف کا اعادہ کیا گیا کہ یوکرین میں جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو معاشی بحرانوں میں دھکیل دیا ہے۔ پاکستان یو این ایس سی کے پلیٹ فارم سے یہ پیغام دے رہا ہے کہ عالمی امن کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری ناگزیر ہے۔ پاکستان نے زور دیا کہ فریقین کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو انسانی بحران کو مزید سنگین بنائیں۔

قیدیوں کا تحفظ اور انسانی حقوق

اجلاس کے دوران اس بات پر خاص توجہ دی گئی کہ جنگ کے دوران پکڑے گئے افراد کے ساتھ انسانی سلوک کیا جائے۔ پاکستان کے نمائندے نے جن نکات پر زور دیا ان میں شامل ہیں:

  • بین الاقوامی مبصرین کو حراستی مراکز تک رسائی دی جائے۔
  • قیدیوں کے ساتھ جنیوا کنونشن کے تحت سلوک کیا جائے۔
  • بلا جواز طویل حراست سے گریز کیا جائے۔

پاکستان کا ماننا ہے کہ جنگی قیدیوں کے حقوق کا تحفظ بین الاقوامی قانون کا بنیادی حصہ ہے اور اس سے انحراف کسی بھی فریق کے لیے عالمی سطح پر تنہائی کا باعث بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے مضمرات

یوکرین تنازعہ کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہوئے ہیں، خاص طور پر اشیائے خوردونوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں۔ پاکستان کی جانب سے مسلسل امن کی اپیل اس بات کی عکاس ہے کہ اسلام آباد ایک مستحکم عالمی نظام کا خواہاں ہے۔ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کے مزید اجلاسوں میں اس مسئلے پر ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ قارئین مزید تفصیلات کے لیے اقوام متحدہ کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔