پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں ملک کے اندر کاروں کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 141.28 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اگر آپ طویل عرصے سے نئی گاڑی خریدنے کا سوچ رہے تھے، تو یہ تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مقامی آٹو مارکیٹ اب کس طرف جا رہی ہے۔ مہنگائی اور بینکوں کی بلند شرح سود کی وجہ سے پچھلے کئی ماہ سے شورومز ویران پڑے تھے، لیکن اب مسافر گاڑیوں، ایس یو ویز اور کمرشل گاڑیوں کی طلب میں واضح بہتری آ رہی ہے۔
تاہم، اتنے بڑے فیصد اضافے کو گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے۔ پچھلے سال اسی عرصے میں پیداوار بہت کم تھی کیونکہ پلانٹس بند تھے اور آٹو فنانسنگ پر کڑی پابندیاں عائد تھیں۔ جب پچھلا بیس بہت نیچے ہو تو معمولی بہتری بھی بہت بڑا جمپ لگتی ہے۔ اس کے باوجود، پاما کا یہ ڈیٹا اس بات کا ثبوت ہے کہ نقد رقم رکھنے والے یا بینک لون حاصل کرنے والے صارفین اب کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے شورومز کا رخ کر رہے ہیں۔
جولائی 2026 کے پاما ڈیٹا سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟
آپ کی ذاتی مالیات پر اس کے اثرات جاننے کے لیے مارکیٹ کے حالات کو دیکھنا ہوگا۔ یہ 141 فیصد سے زائد اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بڑی گاڑیوں کی اسمبلی کرنے والی کمپنیوں نے اپنے پیداواری یونٹس دوبارہ فعال کر دیے ہیں۔ خریدار اب نئی قیمتوں کے عادی ہو چکے ہیں، اگرچہ ہیچ بیکس اور سیڈانز کی فیکٹری گیٹ قیمتیں اب بھی عام آدمی کی پہنچ سے کافی اوپر ہیں۔
آٹو سیکٹر کی اس تازہ ترین رپورٹ کے اہم نکات یہ ہیں:
- جولائی 2026 میں سالانہ بنیادوں پر کاروں کی فروخت میں 141.28 فیصد اضافہ ہوا۔
- طلب کا زیادہ تر جھکاؤ چھوٹی اور درمیانے درجے کی گاڑیوں کی طرف ہے جو عام خاندانوں کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہیں۔
- کمرشل گاڑیوں کی فروخت میں بھی بہتری آئی ہے، جو چھوٹے کاروباروں اور لاجسٹکس کے لیے مثبت علامت ہے۔
- آٹو فنانسنگ کی شرحیں اب قدرے مستحکم ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے بینک لون پر گاڑیاں خریدنا کچھ آسان ہوا ہے۔
آپ کی جیب کے لیے یہ اچھی خبر ہے یا بری؟
اگر آپ یہ امید کر رہے تھے کہ کاروں کی فروخت بڑھنے سے قیمتیں 2020 کی سطح پر واپس آ جائیں گی، تو حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فروخت میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ مینوفیکچررز کے پاس قیمتیں کم کرنے یا بڑی رعایت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس، جب طلب زیادہ ہوتی ہے تو کمپنیاں مزید قیمتیں بڑھانے سے گریز نہیں کرتیں اگر خام مال یا ڈالر کی شرح مبادلہ میں کوئی ہلچل ہو۔
دوسری طرف، ایک متحرک آٹو مارکیٹ معیشت کے لیے اچھی ہوتی ہے۔ اس سے مقامی پارٹس بنانے والی انڈسٹریز میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (FBR) کو ٹیکس وصولی میں مدد ملتی ہے، اور استعمال شدہ گاڑیوں کی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں بھی استحکام آتا ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
صرف ہیڈ لائنز دیکھ کر فورا شوروم نہ بھاگیں۔ اگر آپ کو واقعی نئی گاڑی کی ضرورت ہے، تو کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ عملی اقدامات ضرور کریں:
- مختلف کمرشل بینکوں کے آٹو لون کی مارک اپ ریٹس کا موازنہ کریں تاکہ آپ کو بہترین فنانسنگ ڈیل مل سکے۔
- مقبول ماڈلز کی ڈیلیوری کے اوقات کا جائزہ لیں کیونکہ فروخت بڑھنے سے دوبارہ طویل ویٹنگ لسٹیں بن سکتی ہیں۔
- گاڑی خریدنے سے پہلے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، رجسٹریشن فیس اور انشورنس کے اخراجات کو اپنے ماہانہ بجٹ میں شامل کریں۔
آنے والے مہینوں میں پاما کی نئی رپورٹس پر نظر رکھیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ جولائی کی یہ تیزی ایک مستقل رجحان ہے یا عارضی۔
