پاکستان سٹیزن پورٹل نے عام شہریوں کے سرکاری محکموں کے ساتھ رابطے کے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس نظام کے آغاز سے لے کر اب تک 60 لاکھ 50 ہزار سے زائد عوامی شکایات درج کی جا چکی ہیں جن میں سے تقریباً 59 لاکھ 70 ہزار کا کامیابی سے ازالہ کیا جا چکا ہے۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے اور بجلی یا گیس کے زائد بلوں نے عام آدمی کی نیندیں اڑا رکھی ہیں، یہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بغیر کسی رشوت یا سفارش کے دادرسی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اب آپ کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے یا دلالوں کو منہ مانگی رقم دینے کی ضرورت نہیں رہی۔
شکایات کے اعداد و شمار اور حقائق
سرکاری کارکردگی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک بھر میں درج ہونے والی 6.05 ملین شکایات میں سے 5.97 ملین کو حل کر لیا گیا ہے، جس سے کامیابی کی شرح 99 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ کراچی ہو یا لاہور، اسلام آباد ہو یا پشاور، ملک کے ہر کونے سے لوگ واپڈا، سوئی سدرن، سوئی ناردرن، اور مقامی بلدیاتی اداروں کے خلاف شکایات درج کرا رہے ہیں۔
- کل درج شکایات: 6.05 ملین
- کامیابی سے حل شدہ کیسز: 5.97 ملین
- کامیابی کی شرح: تقریباً 99 فیصد
- اہم شعبے: بجلی، گیس، بلدیاتی امور اور تعلیم
آپ کی جیب اور بجٹ پر اس کا اثر
پاکستان میں سرکاری کاغذی کارروائی اور بیوروکریسی کا سست روی کا شکار نظام ہمیشہ سے عام آدمی کی جیب پر بھاری پڑتا آیا ہے۔ پہلے کسی غلط بل کو درست کرانے یا گیس کی درست ریڈنگ کے لیے دفتروں کے چکر کاٹنے میں ٹرانسپورٹ اور دیہاڑی کا جو نقصان ہوتا تھا، وہ الگ تھا۔ پاکستان سٹیزن پورٹل کے استعمال سے ان غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جب آپ کا بل غلط آئے اور آپ موبائل ایپ کے ذریعے شکایت درج کرا دیں، تو آپ کو نہ تو کسی افسر کی خوشامد کرنی پڑتی ہے اور نہ ہی رشوت دینی پڑتی ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کو اب تک بلوں میں گڑبڑ یا محکموں کی نااہلی کا سامنا ہے، تو فوراً گوگل پلے سٹور یا ایپل ایپ سٹور سے پاکستان سٹیزن پورٹل کی آفیشل ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔ شکایت درج کرتے وقت اپنے بل کا ریفرنس نمبر، درست تصاویر اور اصل مسئلہ صاف الفاظ میں تحریر کریں تاکہ متعلقہ محکمے کو کارروائی میں آسانی ہو۔ ایپ کے ذریعے اپنی شکایت کی پیش رفت پر نظر رکھیں اور کام مکمل نہ ہونے کی صورت میں فیڈ بیک ضرور دیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا صوبائی حکومتیں شکایات کے حل کے بعد عام شہریوں کے فیڈ بیک پر واقعی عمل درآمد کرتی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ اگر آنے والے مہینوں میں پراپرٹی ٹیکس اور لینڈ ریونیو کے محکمے بھی اس پورٹل سے مکمل طور پر منسلک ہو جاتے ہیں، تو اس سے عام شہریوں کو مزید ریلیف ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
