حکومت پاکستان سٹیزن پورٹل پر 98.7 فیصد شکایات کے حل کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن ایک عام پاکستانی کے لیے یہ اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت چھپاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بجلی کے بلوں، کرپشن، اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں تاخیر جیسے مسائل اب بھی جوں کے توں ہیں۔

پاکستان سٹیزن پورٹل کے اعداد و شمار کا فرق

اگرچہ سرکاری حکام کامیابی کے بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں، آزادانہ تجزیہ بتاتا ہے کہ پورٹل کے صارفین کی اطمینان کی شرح صرف 30 فیصد ہے۔ حکومتی نظام میں 'حل شدہ' کا مطلب صرف یہ ہے کہ متعلقہ محکمے نے شکایت کو بند کر دیا ہے، چاہے آپ کا مسئلہ حل ہوا ہو یا نہیں۔ اگر آپ نے بجلی کے غلط بل یا کسی سرکاری محکمے کی لاپرواہی کی شکایت درج کی ہے، تو آپ کو غالباً 'ریزالوڈ' کا پیغام ملا ہوگا جبکہ آپ کا مالی بوجھ ویسا ہی رہا۔

آپ کی جیب پر اثرات

جب یہ نظام صرف ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے، تو اس کا براہِ راست نقصان آپ کو ہوتا ہے:
- وقت کا ضیاع: تفصیلی شکایت درج کرنے میں آپ کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔
- غلط بلنگ: میٹر کی خرابی یا غلط ٹیرف کی شکایت 'بند' ہونے کا مطلب ہے کہ آپ اب بھی اضافی رقم ادا کر رہے ہیں۔
- ذاتی اخراجات: پورٹل پر مسئلہ حل نہ ہونے پر آپ کو دفتروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں، جس سے آپ کے سفری اخراجات اور دیہاڑی کا نقصان ہوتا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کا مسئلہ مالی نوعیت کا ہے، تو صرف پورٹل پر انحصار نہ کریں۔ اگر شکایت 'حل شدہ' قرار دی جائے اور مسئلہ برقرار ہو، تو ریفرنس نمبر کے ساتھ متعلقہ محکمے کے اعلیٰ افسران کو تحریری درخواست دیں۔ citizen.gov.pk پر اپنی شکایت کی تاریخ چیک کرتے رہیں۔ اگر پورٹل ناکام رہے تو 'رائٹ ٹو انفارمیشن' (RTI) قانون کے تحت اپنے صوبائی کمیشن میں درخواست دیں، کیونکہ سرکاری محکمے جوابدہی سے بچ نہیں سکتے۔

مستقبل پر نظر

آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ میں اس نظام کی کارکردگی پر بحث متوقع ہے۔ حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اعداد و شمار کے بجائے حقیقی عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے۔ فی الحال، پورٹل کو صرف ایک ابتدائی قدم سمجھیں، حتمی حل نہیں۔