پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کو یکسر تبدیل کرنے کی ایک بڑی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت ملک بھر میں 32 نئے صوبے اور 33 ہائی کورٹس قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ حکومتی حلقوں میں گردش کرنے والی تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے ایک تفصیلی پریزنٹیشن تیار کر لی گئی ہے تاکہ بڑے صوبوں کو تقسیم کر کے گورننس کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
تجویز کردہ منصوبے کے تحت ملک کے چاروں صوبوں کی جغرافیائی و انتظامی حدود کو نئے سرے سے تشکیل دینے کا ارادہ ہے۔ اس پلان کے مطابق پنجاب میں 10، سندھ میں 7، خیبر پختونخوا میں 7 اور بلوچستان میں 8 نئے صوبے بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد طویل عرصے سے درپیش انتظامی مشکلات کا حل نکالنا اور عوام تک عدلیہ اور سرکاری دفاتر کی رسائی آسان بنانا ہے۔
مجوزہ انتظامی یونٹس کی تقسیم
تجارتی اور انتظامی بنیادوں پر تیار کردہ اس بلیو پرنٹ میں صوبائی دارالحکومتوں پر بوجھ کم کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہروں کے پاس موجود وسیع انتظامی اختیارات کو نئے علاقائی مراکز میں تقسیم کیا جائے گا۔
- پنجاب کو 10 انتظامی زونوں میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے۔
- بلوچستان کے وسیع رقبے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں 8 نئے علاقے بنائے جائیں گے۔
- سندھ اور خیبر پختونخوا میں 7، 7 نئے یونٹس قائم کرنے کا پلان ہے۔
اس کے علاوہ انصاف کی فراہمی کو تیز کرنے کے لیے ملک میں 33 ہائی کورٹس بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ سائلین کو اپنے ہی علاقے میں عدفی ریلیف مل سکے۔
سرکاری ملازمتوں میں کٹائی اور معاشی چیلنجز
اس مجوزہ منصوبے کا ایک متنازع حصہ سرکاری اخراجات میں کمی سے جڑا ہے۔ دستاویز کے مطابق انتظامی اخراجات کو پورا کرنے اور بوجھ کم کرنے کے لیے 40 ہزار سرکاری آسامیاں ختم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر نئے صوبائی سیکرٹریٹس، اسمبلیاں اور ہائی کورٹس بنانا اور چلانا ایک انتہائی مہنگا سودا ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ملک معاشی بحران اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا سامنا کر رہا ہے، سرکاری مشینری کی یہ توسیع سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
یہ منصوبہ فی الحال تجویز کی حد تک ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے آئینی ترامیم اور سیاسی جماعتوں میں وسیع اتفاق رائے درکار ہے۔ ان رپورٹس کی بنیاد پر آپ کو اپنے ڈومیسائل، شناختی کارڈ یا دیگر قانونی دستاویزات میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
مستقبل میں کابینہ کے فیصلوں اور پارلیمانی کمیٹیوں کے بیانات پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس تجویز پر سنجیدگی سے عمل ہوتا ہے یا یہ بھی بیوروکریسی کی فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آئندہ دنوں میں وفاقی وزراء کی جانب سے اس فزیبلٹی رپورٹ اور اس پر آنے والے ممکنہ اخراجات کے حوالے سے بیانات کا انتظار کریں۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے صوبائی حدود کی تبدیلی کے اس مبینہ پلان پر شدید ردعمل متوقع ہے جو کہ پارلیمنٹ کے آنے والے سیشن میں گرم بحث کا موضوع بنے گا۔
