بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک سابق سینئر بیوروکریٹ نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اور دورہ کرنے والے قومی وفود نے سرحد پار کرکٹ دوروں کے دوران بھارت میں منشیات اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ راما سوامی وینکٹا سبرا مانی، جو پہلے بھارت کی یونین وزارت داخلہ میں انڈر سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، نے دوطرفہ کھیلوں کے تبادلوں کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا۔
میڈیا نیٹ ورکس پر آنے والی رپورٹس کے مطابق سابق بیوروکریٹ کا دعویٰ تھا کہ اعلیٰ سطح کے کھیلوں کے دوروں کے دوران ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ ایک بار بار ہونے والا عمل تھا۔ ابتدائی انکشافات میں کسی مخصوص میچ کی تاریخ، ٹورنامنٹ کے سال یا کسی فرد کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن اس بیان نے دونوں ممالک کے میڈیا حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
نئی دہلی سے سامنے آنے والے بے بنیاد دعوے
نئی دہلی سے آنے والے ان بیانات نے کھیلوں کے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ڈپلومیسی پہلے ہی انتہائی حساس نوعیت کی ہے۔ راما سوامی وینکٹا سبرا مانی کا کہنا تھا کہ ریاستی وفود اور سفر کرنے والے اسکواڈز کو کبھی کبھار اسمگلنگ کے کارندے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر روایتی سکیورٹی چیک سے بچنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ہوم اور وزٹنگ دونوں ممالک کی قانون نافذ کرنے والے ادارے روایتی طور پر سخت چیکنگ کرتے ہیں، جس سے ایسے دعوے غیر مصدقہ محسوس ہوتے ہیں۔
لاہور اور کراچی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ٹھوس تحقیقی دستاویز یا ضبطی کے ریکارڈ کے پرانے الزامات دہرانا سیاسی کشیدگی بڑھانے کے سوا کچھ نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ کرکٹ تعلقات سالوں سے معطل ہیں، اور دونوں ٹیمیں اب صرف غیر جانبدار مقامات پر ہونے والے ٹورنامنٹس میں ہی آمنے سامنے آتی ہیں۔ دہائیوں پرانے دوروں کو بغیر کسی عدالتی ثبوت کے اٹھانا ان بیانات کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔
شائقین کو آگے کیا دیکھنا چاہیے
اگر آپ قومی کرکٹ پر گہری نظر رکھتے ہیں تو آپ کو اسلام آباد میں پی سی بی کے قانونی شعبے یا وزارت خارجہ کے سرکاری بیانات پر نظر رکھنی چاہیے۔ ماضی کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ سپورٹس بورڈز اکثر ریٹائرڈ بیوروکریٹس کے بے بنیاد دعوؤں کو نظر انداز کرتے ہیں تاکہ انہیں غیر ضروری اہمیت نہ ملے۔ تاہم، قومی وقار سے جڑے اس قسم کے سنگین الزامات پر ایک واضح تردید بھی سامنے آ سکتی ہے۔
آنے والے دنوں میں درج ذیل پیش رفت کا مشاہدہ کریں:
- پی سی بی کی طرف سے ممکنہ قانونی ردعمل یا قانونی چارہ جوئی۔
- ماضی میں بھارت کا دورہ کرنے والے سابق کھلاڑیوں کے بیانات۔
- انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی جانب سے گورننس اور سالمیت کے پروٹوکولز پر کوئی موقف۔
اہم حقائق کا خلاصہ
- الزام کا ماخذ: راما سوامی وینکٹا سبرا مانی، سابق انڈر سیکرٹری، یونین وزارت داخلہ، بھارت۔
- بنیادی دعویٰ: دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی کرکٹ اسکواڈز اور وفود نے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے دورے استعمال کیے۔
- پیش کردہ ثبوت: ابتدائی بیانات میں کسی تاریخ یا فرد کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
- پی سی بی کی پوزیشن: اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ جواب جاری نہیں کیا گیا۔
