پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے جہاں ملک بھر میں براڈ بینڈ سبسکرپشنز کی تعداد تقریباً 160 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ بڑے شہروں سے لے کر دیہی اضلاع تک پھیلتے ہوئے موبائل ڈیٹا نیٹ ورکس ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی کنیکٹیویٹی کے ساتھ ساتھ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کی 69 فیصد بالغ آبادی اب باضابطہ طور پر مالیاتی نظام کا حصہ بن چکی ہے، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زیر انتظام ڈیجیٹل والٹس اور بینکنگ خدمات تک رسائی کو ظاہر کرتی ہے۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد یا چھوٹے شہروں کے عام شہری کے لیے ان اعداد و شمار کا مطلب ایک عملی حقیقت ہے۔ اسمارٹ فونز کے ذریعے پیسے بھیجنا، بیرون ملک سے ترسیلات زر وصول کرنا اور یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی اب بینکوں کی طویل لائنوں کی ضرورت کو ختم کر رہی ہے۔ تاہم، باقی 31 فیصد بالغ افراد کو جو اب بھی بینکنگ نظام سے باہر ہیں، شامل کرنے کے لیے پی ٹی اے اور تجارتی بینکوں کے مابین مسلسل تعاون کی ضرورت ہے۔
براڈ بینڈ اور موبائل رسائی میں توسیع
تقریباً 160 ملین براڈ بینڈ صارفین تک پہنچنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موبائل انٹرنیٹ پاکستان میں روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ سستے 4G ڈیٹا پیکیجز اور اسمارٹ فونز کی دستیابی نے لاکھوں خاندانوں کو آن لائن تعلیم اور فری لانس مارکیٹس تک رسائی دی ہے۔ تاہم، سروس کا معیار اب بھی ایک چیلنج ہے۔ صارفین اکثر شام کے اوقات میں نیٹ ورک سست ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔
ان مشکلات سے نمٹنے کے لیے آپریٹرز اپنی گنجائش بڑھا رہے ہیں۔ صارفین نیٹ ورک کور اور سموں کی تصدیق کے لیے پی ٹی اے کے سرکاری پورٹل pta.gov.pk کا وزٹ کر سکتے ہیں۔ بائیو میٹرک تصدیق کو یقینی بنانا اور ڈیجیٹل فراڈ سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
69 فیصد مالیاتی شمولیت کا حصول
بالغ آبادی کا 69 فیصد مالیاتی شمولیت تک پہنچنا ایک اہم قدم ہے، جس میں ایزی پیسا، جاز کیش، راست اور مختلف بینکوں کی ایپس کا بڑا ہاتھ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے راست سسٹم نے فیس کے بغیر فوری ڈیجیٹل ادائیگیاں ممکن بنائی ہیں، جس سے چھوٹے تاجروں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔
اس کے باوجود، دستاویزی ضروریات کی سختی اور دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی جیسی رکاوٹیں ترقی کی رفتار کو سست کرتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین کو اکثر موبائل فون رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان خلیجوں کو پُر کرنے کے لیے حکومت اور اداروں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ اپنے ڈیجیٹل لین دین کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ان اقدامات پر عمل کریں:
- پی ٹی اے کی 7000 ایس ایم ایس سروس کے ذریعے اپنے نام پر درج تمام سمز کی تصدیق کریں۔
- تمام بینکنگ اور والیٹ ایپس پر ٹو فیکٹر اتھینیکیشن کو فعال کریں۔
- اپنے ماہانہ اخراجات کو کم کرنے کے لیے سستے براڈ بینڈ پیکیجز کا انتخاب کریں۔
- اپنے روزمرہ کے لین دین کے لیے اسٹیٹ بینک کے راست نظام کا استعمال کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
پی ٹی اے کے آئندہ فیصلوں پر نظر رکھیں جو 5G اسپیکٹرم ٹرائلز اور فائبر آپٹک نیٹ ورک سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دیکھنا ہوگا کہ اسٹیٹ بینک ان افراد کے لیے مائیکرو کریڈٹ کے قوانین کو کیسے وسعت دیتا ہے جو ابھی تک بینکنگ نظام سے باہر ہیں۔
