حومہ کے سخت اقدامات اور مؤثر پالیسیوں کے نتیجے میں یورپ جانے والی غیر قانونی ہجرت میں 47 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بات وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈی سے ملاقات کے دوران بتائی۔

ملاقات کے دوران سرحدی سیکیورٹی، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن اور علاقائی نقل مکانی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں غیر قانونی ایجنٹس اور اسمگلروں کے خلاف جاری کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ یورپی دارالحکومتوں کی جانب سے غیر قانونی آمد پر بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں اسلام آباد کی یہ کارکردگی سفارتی سطح پر کافی اہمیت رکھتی ہے۔

کمی کی اصل وجوہات

سیکیورٹی اداروں نے ایران، ترکی اور دیگر راستوں سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے نوجوانوں کو سہولت فراہم کرنے والے خفیہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ٹیموں نے بڑی تعداد میں انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا ہے، ان کے غیر قانونی بینک اکاؤنٹس منجمد کیے ہیں اور بڑے شہروں میں فرضی ٹریول ایجنسیوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

  • غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے کا سخت کریک ڈاؤن
  • بین الاقوامی انٹیلی جنس شراکت داروں کے ساتھ بہتر تعاون
  • ملکی ہوائی اڈوں اور خارجی راستوں پر سخت جانچ پڑتال
  • اسمگلروں کی مالی معاونت کرنے والے حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورکس کا خاتمہ

ناروے کے ساتھ سفارتی روابط

جمعہ کے روز ہونے والی اس ملاقات میں محسن نقوی اور ایسپن بارتھ ایڈی نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی سیکیورٹی اور قانونی نقل مکانی کے فروغ پر بات چیت کی۔ ناروے سمیت کئی یورپی ممالک غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے دباؤ کا شکار ہیں۔ اسلام آباد کی طرف سے اعداد و شمار میں اس بہتری کا مظاہرہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ہم آہنگی کو مزید بہتر بناتا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ یا آپ کا کوئی جاننے والا غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک جانے کا سوچ رہا ہے تو اس کے شدید قانونی اور جان لیوا خطرات کو مدنظر رکھیں۔ ہمیشہ قانونی راستوں کا انتخاب کریں جو آپ کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ کسی بھی بیرون ملک ملازمت کے لیے روانہ ہونے سے پہلے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے ایجنٹ کی تصدیق ضرور کریں۔

آئندہ کیا دیکھنا ہوگا

پاکستان اور یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان قانونی تارکین وطن کے کوٹے اور واپسی کے پروٹوکولز پر ہونے والے آئندہ معاہدوں پر نظر رکھیں۔ ماہرین اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ آیا وفاقی تحقیقاتی ادارہ سال کے باقی حصوں میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف اپنی اس کارروائی کو جاری رکھ پاتا ہے یا نہیں۔