پاکستان نے باضابطہ طور پر اعادہ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے تناظر میں خطے میں استحکام کے لیے اسلام آباد ایم او یو ہی 'واحد حل' ہے۔ اسلام آباد میں سفارتی ذرائع نے 17 جون 2026 کو اس مؤقف پر زور دیا اور واضح کیا کہ واشنگتن اور تہران کے درمیان جاری چپقلش کے باوجود دو طرفہ مکالمہ ناگزیر ہے۔
معاشی ٹیم نے دو طرفہ توانائی معاہدوں میں اہم ترامیم کے لیے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پاکستان نے طویل مدتی توانائی فریم ورک کے تحت ایرانی گیس کی درآمدی قیمت میں 50 فیصد کمی کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد منصوبے کی حجم میں نمایاں کمی اور بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے امریکہ سے باضابطہ استثنا حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
توانائی کی سفارت کاری پر توجہ
اس دوہری حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی پالیسی سازوں کو سلامتی کے شراکت داروں اور گھریلو معاشی بقا کے درمیان کیسا کٹھن توازن قائم رکھنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں توانائی کی قلت صنعتی اور گھریلو صارفین کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، جس کی وجہ سے سستی ایندھن کی درآمدات معاشی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
سرکاری وفود نے موجودہ مارکیٹ حقائق کے مطابق اسلام آباد ایم او یو کی دفعات کو ڈھالنے کے لیے تکنیکی مشاورت میں تیزی لگی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ درآمدی اخراجات میں کمی لائے بغیر توانائی کے اس منصوبے سے مقامی صارفین کو ریلیف دینا ممکن نہیں۔
عام شہری پر اس کا اثر
پاکستان بھر کے عام شہریوں اور کاروباری حضرات کے لیے ان سفارتی اقدامات کا براہ راست تعلق یوٹی بجلی کے بلوں، بجلی کی فراہمی کے تسلسل اور افراط زر کی شرح سے ہے۔ اگر حکومت سستی گیس کے حصول اور بین الاقوامی چھوٹ میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آنے والے مالیاتی حلقوں میں بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آ سکتی ہے۔
تاہم اس تمام پیش رفت کا دارومدار واشنگتن اور تہران کے بدلتے ہوئے سفارتی رویوں پر ہے۔ آپ کو وزارتِ توانائی کی جانب سے آنے والے دنوں میں ٹیرف اور دو طرفہ تجارت سے متعلق اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔
آئندہ کیا دیکھنا ہوگا؟
امریکہ کے استثنا کی حیثیت اور دو طرفہ تکنیکی کمیٹیوں کی کارروائی سے متعلق وزارتِ خارجہ کی آئندہ بریفنگز پر کڑی نظر رکھیے تاکہ معلوم ہو سکے کہ قیمتوں میں کمی کا خواب کب شرمندہ تعبیر ہوتا ہے۔
