پاکستان نے باضابطہ طور پر بین الاقوامی ٹیلی کام آلات کے معیارات کی پابندی کو لازمی قرار دے دیا ہے، جس کے بعد غیر معیاری ڈیوائسز کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اگر آپ وائرلیس ہارڈ ویئر، ریڈیو فریکوئنسی ٹرانسمیٹر یا مواصلاتی گیجٹس درآمد کرتے ہیں، بیچتے ہیں یا استعمال کرتے ہیں تو ریگولیٹری ادارے اب مزید رعایت نہیں دیں گے۔ وہ غیر تصدیق شدہ آلات جو بنیادی پیمانوں پر پورا نہیں اتریں گے، انہیں بلاک یا ضبط کر لیا جائے گا۔
یہ اقدام ملکی نگرانی کو عالمی سطح کے مطابق بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ حکام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ الیکٹرانکس مارکیٹس میں آنے والے ناقص اور سستے درآمدی سامان کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ اس نفاذ کا بنیادی مقصد تمام تجارتی درآمدات میں سیفٹی، ریڈیو فریکوئنسی کے انتظام اور برقی مقناطیسی مطابقت کو یقینی بنانا ہے۔
نئے ٹیلی کام آلات کے معیارات کی تفصیلات
نفاذ کا یہ نظام ان مخصوص تکنیکی حدود کو ہدف بناتا ہے جنہیں مقامی مارکیٹ میں داخل ہونے سے پہلے ہر مواصلاتی ہارڈ ویئر کو پورا کرنا ہوگا۔ ریگولیٹری ادارے تمام آنے والی کھیپ کے لیے تین اہم نکات کا جائزہ لے رہے ہیں:
- برقی مقناطیسی مطابقت (EMC): آلات کو ایسی الیکٹرانک آواز خارج نہیں کرنی چاہیے جو پبلک سیفٹی نیٹ ورکس، ایوی ایشن فریکوئنسی یا گھریلو آلات میں خلل ڈالے۔
- ریڈیو فریکوئنسی (RF) کی حد: ٹرانسمیٹرز کو بغیر کسی سگنل کے اخراج کے مختص اسپیکٹرم بینڈ کے اندر کام کرنا چاہیے۔
- بجلی کے حفاظتی اصول: پاور سپلائی اور سرکٹری کو مقامی بجلی کے اتار چڑھاؤ کے دوران شارٹ سرکٹ، حد سے زیادہ گرم ہونے اور آگ کے خطرات سے بچانا چاہیے۔
ماضی میں گرے مارکیٹ کا الیکٹرانکس اور غیر تصدیق شدہ سامان کم سے کم جانچ پڑتال کے ساتھ بندرگاہوں سے گزر جاتا تھا۔ ریٹیلرز ایسے سستے متبادل فروخت کرتے تھے جو اکثر سیلولر ٹاورز اور ایمرجেন্সি سروسز میں خلل کا باعث بنتے تھے۔ اپ ڈیٹ کردہ پالیسی کے تحت کسٹمز اور ریگولیٹری انسپکٹرز کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر بڑے تجارتی مراکز کے داخلے کے مقامات پر غیر معیاری کھیپ کو روکنے کے لیے جدید ترین لیبارٹریز کا استعمال کر رہے ہیں۔
درآمد کنندگان اور عام صارفین پر اثرات
روزمرہ کے صارفین کے لیے اس کریک ڈاؤن کا مطلب یہ ہے کہ دکانوں پر غیر برانڈڈ سستے لوازمات اور کاپی شدہ ڈیوائسز کم ہو جائیں گے۔ اگرچہ سستے راؤٹرز اور بلیو ٹوتھ گیجٹس کے شوقین افراد اس تبدیلی پر افسوس کا اظہار کر سکتے ہیں، لیکن اس کا طویل مدتی فائدہ ایک محفوظ ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی صورت میں سامنے آئے گا۔ ناقص چارجرز اور خراب وائرلیس راؤٹرز طویل عرصے سے پاکستانی گھرانوں میں آگ لگنے کے خطرات کا باعث بنتے رہے ہیں۔
تجارتی درآمد کنندگان کو اب کسٹمز کلیئرنس کی کوشش کرنے سے پہلے بین الاقوامی سطح پر منظور شدہ لیبارٹریز سے تصدیق شدہ ٹیسٹ رپورٹس حاصل کرنا ہوں گی۔ یہ سرٹیفکیٹس پیش کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں تمام سامان فوری طور پر ضبط کر لیا جائے گا۔ ان چیکس کو نظر انداز کرنے والے درآمد کنندگان کو بھاری مالی جرمانے اور تجارتی حکام کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ الیکٹرانکس کا کاروبار چلاتے ہیں یا ٹیک لوازمات درآمد کرتے ہیں، تو فوری طور پر اپنی سپلائی چین کا جائزہ لیں۔ بیرون ملک مینوفیکچررز سے اس وقت تک بلک انوینٹری نہ خریدیں جب تک وہ برقی مقناطیسی مطابقت اور ریڈیو سیفٹی کے لیے درست تعمیل کے سرٹیفکیٹس فراہم نہ کریں۔ ہمیشہ اس بات کی تصدیق کریں کہ آپ جو بھی ہارڈ ویئر تقسیم کر رہے ہیں وہ منظور شدہ ریگولیٹری پیرامیٹرز پر پورا اترتا ہے۔
عام خریداروں کے لیے، راؤٹرز، سمارٹ ہوم اپلائنسز یا موبائل لوازمات خریدنے سے پہلے ڈیوائس کی اصلیت کی جانچ کریں۔ سرکاری تصدیقی مہریں تلاش کریں اور مجاز ڈیلرز سے خریداری کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
مقامی گوداموں میں پہلے سے موجود انوینٹری کے لیے رعایت کی مدت کے حوالے سے ریگولیٹری حکام کے آئندہ اعلانات پر نظر رکھیں۔ انڈسٹری کی تنظیمیں اس وقت چھوٹے دکانداروں کے لیے عبوری ریلیف کے لیے کوشش کر رہی ہیں، اور آنے والے ہفتوں میں باضابطہ وضاحتیں متوقع ہیں۔
