حکومت کی جانب سے ٹیلی کام ایکوئپمنٹ اسٹینڈرڈز ریگولیشنز 2024 کے باضابطہ نفاذ کے بعد اب پاکستان بھر میں تیار، درآمد، فروخت یا استعمال ہونے والے تمام ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے لیے بین الاقوامی اصولوں کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد مقامی مارکیٹ سے غیر معیاری ہارڈ ویئر کا خاتمہ، صارفین کو حفاظتی خطرات سے بچانا اور قومی انفراسٹرکچر کو عالمی ٹیلی کام معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔ تمام درآمد کنندگان، دکانداروں اور مقامی مینوفیکچررز کو اپنی سپلائی چین کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا تاکہ ہر ڈیوائس ان نئے قوانین پر پورا اتر سکے۔
نئے ٹیلی کام ایکوئپمنٹ اسٹینڈرڈز ریگولیشنز 2024 کا آپ پر اثر
اگر آپ اسلام آباد، کراچی، لاہور یا ملک کے کسی بھی شہر میں کوئی ایسا گیجٹ خریدتے، بیچتے یا استعمال کرتے ہیں جو ٹیلی کام نیٹ ورک سے جڑتا ہے، تو یہ فریم ورک براہ راست آپ کے فیصلوں کو متاثر کرتا ہے۔ حکومت نے ایسے تمام آلات کی درآمد اور فروخت غیر قانونی قرار دے دی ہے جو بین الاقوامی معیار اور حفاظتی ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام رہیں۔ ماضی میں غیر قانونی درآمدات اور غیر تصدیقی اشیاء مارکیٹ میں آسانی سے آ جاتی تھیں۔ اب ٹیلی کام ایکوئپمنٹ اسٹینڈرڈز ریگولیشنز 2024 کے تحت متعلقہ اداروں کو بندرگاہوں اور سرحدوں پر ہی ایسی غیر معیاری کھیپ روکنے کے سخت اختیارات مل گئے ہیں۔
- تمام مقامی مینوفیکچررز کو بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق پروڈکشن لائنز کو اپ گریڈ کرنا ہوگا۔
- کمرشل درآمد کنندگان کو کسٹم کلیئرنس سے پہلے لازمی تعمیلاتی سرٹیفکیٹس پیش کرنا ہوں گے۔
- غیر تصدیقی موبائل فونز، راؤٹرز اور کمیونیکیشن ہارڈ ویئر فروخت کرنے والے دکانداروں کو سخت جرمانوں کا سامنا کرنا ہوگا۔
- صارفین کو ناقص، خطرناک یا نیٹ ورک کے لیے غیر موزوں الیکٹرونکس کے خلاف قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔
درآمد کنندگان اور تاجروں کے لیے ہدایات
موبائل فونز، وائی فائی راؤٹرز اور دیگر مواصلاتی آلات کا کاروبار کرنے والے تاجروں کو سامان کی ضبطی سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ آپ کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنی موجودہ انوینٹری کو منظور شدہ بین الاقوامی حفاظتی فہرستوں کے مطابق چیک کریں۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کے پورٹل یا متعلقہ انڈسٹری ایسوسی ایشن سے رابطہ کرکے کاغذی کارروائی کی ضروریات کا جائزہ لیں۔ اس وقت تک کوئی نیا آرڈر نہ دیں جب تک آپ کے غیر ملکی سپلائرز ٹیلی کام ایکوئپمنٹ اسٹینڈرڈز ریگولیشنز 2024 کے معیار پر پورا اترنے والے تصدیقی دستاویزات فراہم نہ کریں۔
پاکستانی ٹیک سیکٹر میں آگے کیا ہوگا؟
آنے والے ہفتوں میں کھلی مارکیٹوں میں غیر تصدیقی چائنیز کلونز اور سستے نیٹ ورکنگ گیجٹس فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن متوقع ہے۔ نگران ادارے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کراچی اور لاہور سمیت تمام تجارتی مراکز پر کسٹم اور ریگولیٹری حکام ان قوانین پر کتنی سختی سے عمل درآمد کراتے ہیں۔ اگر آپ جلد ہی کوئی مہنگا الیکٹرونکس یا ٹیلی کام کا سامان خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو پیسے دینے سے پہلے ہمیشہ دکاندار سے آفیشل کمپلائنس پروف ضرور طلب کریں۔
