امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کشمیر تنازعہ کا حل صرف اور صرف بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں ہی ممکن ہے۔ یہ بیان واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ویبینار کے دوران دیا گیا، جس کا مقصد 'یومِ استحصال' کے موقع پر کشمیریوں کے حقوق کی جدوجہد کو اجاگر کرنا تھا۔
کشمیر تنازعہ پر سفارتی موقف
سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان کا اصولی موقف اٹل ہے اور عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ ان کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد تنازعہ کے حل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
- مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی کو ختم ہونا چاہیے۔
- پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کا حامی ہے۔
عالمی برادری کا کردار
ایک عام پاکستانی شہری کے لیے کشمیر تنازعہ محض ایک سیاسی موضوع نہیں بلکہ قومی غیرت اور انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ سفیر نے واشنگٹن میں موجود پالیسی سازوں کو باور کرایا کہ اس مسئلے کو نظر انداز کرنے سے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، اس ویبینار کا مقصد دنیا کو یہ یاد دلانا تھا کہ کشمیری عوام دہائیوں سے اپنے حقِ خود ارادیت کے منتظر ہیں۔ سفارت خانہ اس معاملے پر مسلسل امریکی حکام اور تھنک ٹینکس کے ساتھ رابطے میں ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
آئندہ چند ہفتوں میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران اس مسئلے پر مزید بحث متوقع ہے۔ آپ کو درج ذیل پیش رفت پر نظر رکھنی چاہیے:
- عالمی رہنماؤں کے بیانات میں کشمیر کا تذکرہ۔
- دفتر خارجہ اسلام آباد کی جانب سے سفارتی سطح پر ہونے والی پیش رفت۔
- انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹس۔
اگر آپ اس حوالے سے سرکاری اپ ڈیٹس حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سفارت خانہ پاکستان امریکہ کے آفیشل ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ @PakinUSA کو فالو کر سکتے ہیں۔
