وفاقی حکومت پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے کے لیے رئیل اسٹیٹ اور دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری اور ملکیت کے لیے ڈیجیٹل ٹوکنز کے استعمال پر غور کر رہی ہے۔ یہ بات تکنیکی انضمام اور اقتصادی اصلاحات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی سرکاری اجلاس کے دوران سامنے آئی۔
حکام نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کس طرح بلاک چین پر مبنی ڈیجیٹل ٹوکنز چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے پراپرٹی مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنا سکتے ہیں۔ مہنگی رئیل اسٹیٹ کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے سے مارکیٹ میں سرمائے کی گردش بہتر ہو سکتی ہے۔
جائیداد کی سرمایہ کاری میں تبدیلی
کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں پراپرٹی خریدنے کے لیے بھاری سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل ٹوکنز کے ذریعے عام شہری بھی جائیداد میں چھوٹے حصص خرید سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کو کامیاب بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سخت ضوابط کی ضرورت ہوگی تاکہ سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
سرمایہ کاروں کے لیے لائحہ عمل
اگر حکومت اس فریم ورک کو آگے بڑھاتی ہے تو آنے والے مہینوں میں پائلٹراج پراجیکٹس متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری کرنے سے پہلے سرکاری اداروں کی منظوری ضرور چیک کریں۔
