پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں یہ صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ عام پاکستانی خاندان کی جیب پر بھی بوجھ بن گیا ہے۔ 7 اگست 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، سال کے پہلے چھ ماہ میں 1,914 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو کہ ملکی نظام میں ایک بڑی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ اور مالی نقصانات

جب ہم اس صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو اکثر لوگ صرف جذباتی پہلو دیکھتے ہیں۔ لیکن ایک متوسط طبقے کے خاندان کے لیے اس کے معاشی اثرات فوری اور تکلیف دہ ہیں۔ اگر آپ کے علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہے، تو آپ کو نجی سیکیورٹی، اسکول ٹرانسپورٹ کی اپ گریڈیشن اور نفسیاتی کونسلنگ پر ہزاروں روپے اضافی خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔

بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے والدین کو اب نجی اسکولوں اور محفوظ علاقوں کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ماہانہ اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نجی ماہر نفسیات کے پاس جانے کا خرچہ بھی اب 3,000 سے 8,000 روپے فی سیشن تک پہنچ چکا ہے۔

آپ کی روزمرہ زندگی میں تبدیلی

عوامی مقامات، جیسے پارک اور پلے گراؤنڈز، اب والدین کے لیے غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ خاندان اب سستے عوامی تفریحی مقامات کے بجائے مہنگی نجی کلبوں یا گھر کے اندر رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ "سیفٹی پریمیم" آپ کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ کھا رہا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

سب سے پہلے، اپنے بچوں کے ساتھ رابطے کو مضبوط بنائیں۔ اگر آپ کو کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کا شبہ ہو تو فوری طور پر 15 پر رابطہ کریں یا اپنے قریبی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے دفتر جائیں۔ کسی بھی قانونی کارروائی کے لیے میڈیکل رپورٹس اور دیگر شواہد کو سنبھال کر رکھنا بہت ضروری ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

حکومتی سطح پر ہونے والی قانون سازی پر نظر رکھیں۔ اگر آپ کے علاقے کا نمائندہ اسٹریٹ لائٹس یا سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی بات کرے تو اس کی حمایت کریں۔ یاد رکھیں، جب تک ریاست کی طرف سے بچوں کے تحفظ کے لیے مخصوص فنڈز مختص نہیں کیے جاتے، تب تک آپ کو اپنی حفاظت خود کرنی پڑے گی، جس کے لیے آپ کو اپنے بجٹ میں گنجائش رکھنی ہوگی۔