وفاقی حکومت نے 10 جون 2026 کو اسلام آباد میں باضابطہ طور پر پاکستان وفاقی بجٹ 2026-27 پیش کر دیا ہے، جس میں ایسے اہم مالیاتی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے جو ملک بھر میں تنخواہ دار طبقے، تاجروں اور عام صارفین کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ چونکہ پاکستان معاشی استحکام کی طرف گامزن ہے، اس سال کے مالیاتی پلان میں آمدنی کے نئے ٹیکس سلیبز، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ اور مہنگائی کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے ریلیف کے اقدامات شامل ہیں۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد یا کسی بھی دوسرے شہر میں رہنے والے تنخواہ دار ٹیکس دہندہ کے لیے پاکستان وفاقی بجٹ 2026-27 کی باریکیوں کو سمجھنا مالیاتی منصوبہ بندی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے اعلانات کردہ رقوم، ٹیکس میں تبدیلیوں اور ریلیف پیکجز کی مکمل تفصیلات ذیل میں درج ہیں۔
اہم تفصیلات
- اعلان کی تاریخ: 10 جون 2026
- نفاذ کی تاریخ: 1 جولائی 2026
- سرکاری پورٹل: www.finance.gov.pk یا www.fbr.gov.pk
- کم از کم اجرت: 37,000 روپے ماہانہ (ملک بھر میں)
- سرکاری تنخواہوں میں اضافہ: گریڈ 1 سے 22 تک کے لیے 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس
- پینشن میں اضافہ: وفاقی حکومت کے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے 10 فیصد
- انکم ٹیکس چھوٹ کی حد: سالانہ آمدنی 600,000 روپے (50,000 روپے ماہانہ) برقرار
- جنرل سیلز ٹیکس (GST): معیاری شرح 18 فیصد برقرار، بنیادی غذاشی اشیاء پر چھوٹ
- انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ: 30 ستمبر 2026
تنخواہوں میں ایڈجسٹمنٹ اور سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف
گزشتہ چند مالی سالوں کے دوران مہنگائی نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے، پاکستان وفاقی بجٹ 2026-27 میں 1 جولائی 2026 سے گریڈ 1 سے گریڈ 22 تک کے تمام وفاقی سول ملازمین کے لیے 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا حکم دیا گیا ہے۔ مزید برآں، وفاقی کم از کم اجرت کو باضابطہ طور پر بڑھا کر 37,000 روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے، اور توقع ہے کہ صوبائی حکومتیں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نجی شعبے کے کارکنوں کے لیے بھی اس کی پیروی کریں گی۔
راولپنڈی یا فیصل آباد میں کم از کم طے شدہ اجرت کمانے والے جونیئر کلرک کے لیے، اس ایڈجسٹمنٹ سے جیب خرچ میں کچھ بہتری آئے گی، حالانکہ بجلی، پیٹرولیم مصنوعات اور آٹے کی مارکیٹ کی قیمتیں اصل قوت خرید کا تعین کریں گی۔ پینشنرز کو بھی فراموش نہیں کیا گیا، طبی اور گھریلو اخراجات کو سنبھالنے کے لیے ان کے ماہانہ وظیفے میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
نئے ٹیکس سلیبز اور ایف بی آر کے اقدامات
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے متوسط طبقے پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے ٹیکس بریکٹس کی تشکیل نو کی ہے۔ ٹیکس سے مستثنیٰ آمدنی کی حد سالانہ 600,000 روپے پر برقرار رکھی گئی ہے۔ تاہم، سالانہ 600,001 روپے سے 1,200,000 روپے تک کمانے والے افراد کو معمولی فکسڈ ٹیکس کے ساتھ ساتھ نچلی حد سے زیادہ رقم پر ترقی پسند فیصد ادا کرنا ہوگی۔
تاجروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو یہ نوٹ کرنا چاہیے کہ اب ڈیجیٹل لین دین اور پوائنٹ آف سیل (POS) کے نظام کو ترغیب دی جا رہی ہے، اور ایف بی آر پورٹل پر ایکٹو ٹیکس دہندہ کے طور پر درج کاروباروں کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کم کر دی گئی ہے۔ اپنی درست ٹیکس کی ذمہ داری کی تصدیق کرنے یا فنانس بل 2026 ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے آفیشل ایف بی آر ویب پورٹل www.fbr.gov.pk ملاحظہ کریں۔
روزمرہ کی قیمتوں اور کاروبار پر اثرات
براہ راست ٹیکسوں کے علاوہ، پاکستان وفاقی بجٹ 2026-27 میں درآمدی پرتعیش اشیاء پر ہدف شدہ ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ زراعت اور برآمدی صنعتوں کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کو محدود رکھا گیا ہے تاکہ ایندھن کی قیمتوں میں اچانک جھٹکوں سے بچا جا سکے، جس سے شہروں کے درمیان چلنے والی ٹرانسپورٹ کے کرائے مستحکم رہیں گے۔
ملتان، پشاور اور کوئٹہ کے کاروباری حضرات کو فوری طور پر اپنی سپلائی چین کے اخراجات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ چونکہ نیا مالیاتی ڈھانچہ 1 جولائی 2026 سے مکمل طور پر نافذ العمل ہو رہا ہے، اس لیے تعمیل کی ڈیڈ لائنز سخت ہیں۔ سخت جرمانوں اور نان فائلر سرچارجز سے بچنے کے لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے کارپوریٹ ٹیکس گوشوارے اور سیلز ٹیکس ریٹرن 30 ستمبر 2026 کی آخری تاریخ سے پہلے اپ ڈیٹ ہوں۔ سیکٹر کے لحاظ سے نوٹیفیکیشنز اور بجٹ کی دستاویزات کے لیے وزارت خزانہ کی ویب سائٹ دیکھیں۔
