پانی کے بڑھتے ہوئے بہاؤ اور سندھ کے علاقے قمبر میں واڑا برانچ میں دو سو فٹ چوڑے شگاف نے ایک بار پھر ملک کی زرعی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جب بھی دریاؤں اور کینالز میں دباؤ بڑھتا ہے، اس کا سب سے پہلا اثر زمینداروں پر پڑتا ہے اور پھر اس کا بوجھ سیدھا عام صارف کی جیب پر آتا ہے۔ اس بار صورتحال یہ ہے کہ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان کی فصل پانی میں ڈوب چکی ہے، جس سے مقامی کسانوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
دباؤ کا آپ کے کچن کے بجٹ پر اثر
جب سندھ اور پنجاب کے زرعی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور فصلیں تباہ ہوتی ہیں، تو منڈیوں میں اجناس کی رسد متاثر ہوتی ہے۔ دھان کی فصل کو پہنچنے والے نقصان کا مطلب ہے کہ آنے والے ہفتوں میں چاول کی قیمتیں اوپر جائیں گی۔ سبزیاں پہلے ہی مہنگی ہیں اور اب خوراک کی مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار گواہ ہیں کہ زرعی نقصانات براہ راست ماہانہ مہنگائی کی شرح کو بڑھاتے ہیں۔
ڈیموں کی پوزیشن اور توانائی کا شعبہ
اچھی خبر یہ ہے کہ مون سون اور بارشوں کے باعث ملک کے بڑے ڈیموں میں پانی کی ذخیرہ اندوزی بہتر ہوئی ہے، جو آنے والے مہینوں میں سستی پن بجلی پیدا کرنے کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔ نیپرا (NEPRA) کو پن بجلی کی زیادہ پیداوار سے فرنس آئل اور درآمدی ایل این جی پر انحصار کم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اگر واٹر مینجمنٹ بہتر رہے تو بجلی کے نرخوں میں وقتی ریلیف مل سکتا ہے، لیکن اگر شگاف اور کینال کے ٹوٹنے کا سلسلہ نہ رکا تو مقامی سطح پر معاشی نقصان اس ریلیف کو نگل جائے گا۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
- اپنے ماہانہ بجٹ میں خوراک بالخصوص چاول اور گندم کی بنیادی اشیاء کے لیے کچھ اضافی گنجائش رکھیں۔
- اگر آپ کسان ہیں تو مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حفاظتی بندوں کو مضبوط کرنے کے اقدامات کریں۔
- بجلی کے بلوں پر نظر رکھیں اور توانائی کی بچت کی عادت اپنائیں تاکہ ٹیرف میں ردوبدل سے کم سے کم متاثر ہوں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
اگلے چند ہفتوں میں وفاقی وزارتِ آبی وسائل اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (PDMA) کی رپورٹس پر نظر رکھنا ہوگی۔ اگر بارشوں کا دوسرا سلسلہ شروع ہوا تو ڈیموں سے مزید اخراج کرنا پڑے گا، جس سے زرعی علاقوں پر دباؤ اور بڑھے گا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت متاثرہ کسانوں کے لیے کسی مالی ریلیف یا امدادی پیک کا اعلان کرتی ہے یا نہیں۔
