پاکستانی حکومت نے ایک نیا ضابطہ اخلاق نافذ کیا ہے جس کے تحت غیر ملکی صحافیوں کے لیے ملک کے بیشتر حصوں میں رپورٹنگ کرنے سے قبل سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 6 اگست 2026 سے نافذ العمل ہونے والے اس حکم نامے کے بعد، بین الاقوامی میڈیا اداروں کو اب مخصوص علاقوں میں کوریج کے لیے متعلقہ حکام سے پیشگی منظوری لینی ہوگی۔
پاکستان میڈیا رپورٹنگ پابندیوں کا اثر
یہ پاکستان میڈیا رپورٹنگ پابندیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت ملک کے اندر بین الاقوامی میڈیا کی کوریج پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر رہی ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق، صحافیوں کو صوبوں یا حساس اضلاع کا دورہ کرنے سے پہلے وزارت اطلاعات و نشریات کو اپنے دورے کی تفصیلات جمع کرانی ہوں گی۔ اگرچہ سرکاری حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات غیر ملکی نامہ نگاروں کی حفاظت کے لیے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیوروکریٹک رکاوٹیں دراصل سنسرشپ کی ایک شکل ہیں۔
- شرط: فیلڈ کوریج کے لیے سرکاری اجازت لازمی ہے۔
- دائرہ کار: بڑے شہری مراکز کے باہر زیادہ تر علاقوں پر لاگو۔
- تاریخ نفاذ: 6 اگست 2026۔
- نگران ادارہ: وزارت اطلاعات و نشریات۔
شفافیت اور آزادی صحافت پر خدشات
صحافتی تنظیموں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجازت نامے کے حصول میں ہونے والی تاخیر کے باعث صحافی بریکنگ نیوز، انسانی بحرانوں یا سیاسی پیش رفت کو بروقت رپورٹ کرنے سے قاصر رہیں گے۔ پیشگی اجازت کی شرط سے حکومت کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ کسی بھی علاقے تک میڈیا کی رسائی کو محدود کر سکے، جس سے آزادانہ رپورٹنگ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عام شہریوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ملکی معاملات پر بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے آنے والی آزادانہ رپورٹنگ اب پہلے سے زیادہ محدود ہو سکتی ہے۔ جب آزاد مبصرین کی نقل و حرکت محدود ہو، تو اکثر سرکاری بیانیے کو ہی زیادہ جگہ ملتی ہے۔ صحافیوں کو اب ایک پیچیدہ اجازت نامے کے نظام سے گزرنا ہوگا، جس سے مستقبل میں ان کے ویزا یا کوریج کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
آئندہ کیا متوقع ہے؟
اگر آپ پاکستان کے بارے میں بین الاقوامی میڈیا کی کوریج پر نظر رکھتے ہیں، تو یہ دیکھیں کہ ان ضوابط کا عملی اطلاق کیسے ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہوگی کہ کتنی بار اجازت نامے مسترد کیے جاتے ہیں اور آیا سرحدی علاقے یا تنازعات والے اضلاع غیر ملکی پریس کے لیے مکمل طور پر بند ہو جاتے ہیں۔ توقع ہے کہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) اور مقامی پریس کلب اس پالیسی کے اثرات پر اپنا ردعمل دیں گے۔
فی الحال حکومت نے ان اجازت ناموں کے لیے کوئی ڈیجیٹل پورٹل جاری نہیں کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ عمل زیادہ تر دفتری کارروائی تک محدود ہے اور مقامی حکام کی صوابدید پر منحصر ہے۔ اگر آپ ایک میڈیا پروفیشنل ہیں، تو وزارت اطلاعات و نشریات کی ویب سائٹ پر ایس او پیز میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی پر نظر رکھیں۔
